سوال جواب
الرسالہ، جون ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
سوال جواب
آدمی خشوع وخضوع کے ساتھ جب اللہ سے دعا کرتا ہے تو یہ کیفیات صرف کچھ وقت کے لئے طاری ہوتی ہیں کیا اس کے علاوہ عام حالت میں آدمی دیگر مسنون دعاؤں کو پڑھ سکتا ہے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں (محبوب خان، جے پور، راجھستان)
جواب
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جو دعائیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، وہ بلاشبہ نہایت قیمتی ہیں۔ وہ اس قابل ہیں کہ اُن کو اپنے ذکر و دعا میں شامل کیا جائے۔ لیکن ان دعاؤں کو اُسی طرح کرنا ہے، جس طرح اُن کو خود پیغمبر اسلام نے کیا تھا، نہ کہ کسی اور طریقے سے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مسنون دعائیں اپنے الفاظ کے اعتبار سے پُراسرار طور پر مؤثر ہیں۔ ان الفاظ کو صحتِ تلفظ کے ساتھ اپنی زبان سے ادا کرنا ہی مسنون انداز میں دعا کرنا ہے۔ مگر ایسا خیال درست نہیں۔ پیغمبر اسلام کا معاملہ یہ نہیں تھا کہ آپ نے آج کل کے مسلمانوں کی طرح ان دعائیہ الفاظ کو یاد کر لیا تھا اور اُن کو محض لفظی طور پر دہراتے رہتے تھے۔ اس کے برعکس، آپ کی دعا یہ تھی کہ آپ کے دل میں کچھ ربانی احساسات طاری ہوئے۔ آپ نے جب ان احساسات کو ظاہر کرنا چاہا تو وہ دعائیہ الفاظ کی صورت میں ڈھل گئے۔ یہی آج بھی ہونا چاہیے۔ آج بھی مسنون دعا یہ ہے کہ آدمی کے اندر اللہ کی یاد سے کچھ اعلیٰ کیفیات پیدا ہوں، اور وہ اپنی ان کیفیات کو مسنون دعا کی صورت میں اپنی زبان سے ادا کرے۔ مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے عربی زبان اُن کی مادری زبان تھی۔ اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ کی دعائیں اصلاً مادری زبان میں نکلی ہوئی دعائیں ہیں، نہ کہ سادہ طور پر صرف عربی زبان میں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اعلیٰ کیفیات ہمیشہ اپنی مادری زبان میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے اگر کسی شخص پر اعلیٰ ربانی کیفیات طاری ہوں اور وہ اپنی مادری زبان میں اُسی قسِم کے احساسات کا اظہار کرے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ادا ہوئے تھے، اگر کوئی شخص اس طرح اپنی مادری زبان میں دعا کرے تو وہ بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے مسنون دعاء کے زمرے میں شمار ہوگی۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2009 All issues