Al-Risala · July 2009 · page 3

گجرات کا سفر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۳

مودی گورنمنٹ نے دیا ہے جو 2002 کے فرقہ وارانہ فساد میں کافی بدنام ہوئی تھی۔ عام رواج کے مطابق ، لوگوں نے اس واقعے کو منفی پہلو سے لیا۔ عام طور پر یہ کہا جانے لگا کہ چوں کہ ہندستانی پارلیمانٹ کا الیکشن بہت جلد ہونے والا ہے ، اس لیے مودی گورنمنٹ نے ریاست کے مسلم ووٹروں کو اپنی پارٹی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایسا کیا ہے ، یعنی یہ امیج بلڈنگ اسٹریٹجی (image building strategy) کا ایک حصہ ہے۔

میں نے کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا منفی تبصرہ صرف ایک غیر دانش مندانہ تبصرہ ہے۔ یہ دنیا فرشتوں کی دنیا نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار اپنے سیاسی مصالح کے تحت اقدامات کرتے ہیں۔ دوسروں کا یہ کام ہے کہ وہ دانش مندانہ عمل کے ذریعے ان اقدامات کو اپنے لیے موافق بنا سکیں۔

اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع (partial opportunities) ملیں ، کسی کو بھی یہاں کلی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ اس لیے دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کر کے انھیں استعمال کیا جائے۔

یہی وہ حقیقت ہے جو صحیح البخاری کی ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسیر)

اس حدیث میں ایک قانونِ فطرت کو بتایا گیا ہے، یعنی ایک’’فاجر‘‘ انسان اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے ایک اقدام کرتا ہے۔ اس اقدام سے خود فاجر انسان کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ یہ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے، جن کو استعمال کر کے دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس حدیثِ رسول میں جس ’’تائیدِ فاجر‘‘ کا ذکر ہے، اس سے مراد بالواسطہ تائید ہے، نہ کہ براہِ راست تائید۔ روانگی سے صرف ایک دن پہلے (24 فروری 2009) کے اخبارات میں صفحۂ اوّل کی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues

Printed page