قیامت کا تجربہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰
قیامت کا تجربہ
نومبر 1984 میں میرا ایک سفر کیسابلانکا (مراکو) کے لیے ہوا تھا۔ 25 نومبر 1984 کی شام کو جہاز نے مجھے کیسابلانکا (Casablanca) کے ائرپورٹ پر اتار دیا۔ اُس وقت میں اکیلا تھا۔ یہاں ایک عجیب تجربہ پیش آیا۔ مجھے ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے بلایا گیا۔ کانفرنس کی طرف سے مجھے ہوائی جہاز کا ٹکٹ تو بھیج دیا گیا تھا، لیکن کیسابلانکا میں مقامِ اجتماع کا کوئی پتہ میرے پاس نہ تھا۔ میرے پاس منتظمین کانفرنس کا کوئی نمبر بھی نہ تھا، جس کے ذریعے میں اُن سے رابطہ قائم کرسکوں۔ میں ائرپورٹ پر اترا تو وہاں کانفرنس کا کوئی آدمی مجھے رسیو (receive) کرنے کے لیے موجود نہ تھا۔ ائرپورٹ کے مختلف لوگوں سے میں نے جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ فرانسیسی زبان بولتے ہیں، وہ نہ عربی زبان سمجھتے تھے اور نہ انگریزی زبان۔ کچھ دیر کے لیے مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں یہاں ایک بے جگہ شخص (displaced person) بن گیا ہوں۔ یہاں نہ میرا کوئی ساتھی ہے، نہ میرے لیے قیام کی کوئی جگہ ہے، نہ میرے لیے زندگی کے دوسرے سامان۔ محسوس ہوا کہ یہ میرے لیے ایک اجنبی جگہ ہے اور یہاں میں بالکل تنہا ہو گیا ہوں۔
پریشانی کے عالم میں میں ادھر اُدھر دوڑتا رہا، لیکن کوئی شخص وہاں میری مدد کرنے والا نہیں ملا۔ آخر کار میں اسی پریشانی کی حالت میں ائرپورٹ کے باہر آگیا۔ یہاں میں ایک اجنبی انسان کی طرح کھڑا ہوا تھا، اور کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کیا کروں اور کہاں جاؤں۔ کچھ دیر کے بعد مجھے نظر آیا کہ ایک آدمی سڑک کے دوسری طرف سے چل کر میری طرف آرہا ہے۔ وہ میرے پاس آیا اور اردو زبان میں مجھ سے بات کرنے لگا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک پاکستانی مسلمان ہیں اور یہاں کسی سروس کے تحت رہتے ہیں۔ اُن کو میرے حالات سن کر مجھ سے ہمدردی ہوئی۔ وہ فرانسیسی زبان جانتے تھے۔ وہ مجھ کو لے کر ائرپورٹ میں واقع پولیس کے دفتر میں گئے۔ انھوں نے پولس والوں سے فرانسیسی زبان میں بات کی۔ پولس والوں نے کہا کہ اس بارے میں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues