Al-Risala · January 2009 · page 31

قیامت کا تجربہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۱

ہمارے پاس کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں، البتہ ہم یہ بتا سکتے ہیں کہ کیسا بلانکا کے ہوٹل ”سفیر“ میں ایک کانفرنس ہو رہی ہے۔ اس کے بعد مذکورہ پاکستانی مسلمان نے کہا کہ میں صرف یہ کر سکتا ہوں کہ آپ کو اپنی گاڑی میں لے چلوں اور ہوٹل ”سفیر“ کے باہر اتار دوں۔ چناں چہ انھوں نے مجھ کو اپنی گاڑی پر بٹھایا اور ہوٹل سفیر کے گیٹ پر مجھ کو چھوڑ کر چلے گئے۔

میں ڈرتے ہوئے ہوٹل کے اندر داخل ہوا۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھے کانفرنس کے بعض افراد مل گئے جو مجھ کو پہچانتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں میرے لیے ایک کمرہ رزرو (reserve) ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مجھ کو ہوٹل کا کارڈ دے کر اس کے کمرہ نمبر 1207 میں پہنچا دیا۔ 25 نومبر 1984 کو جو مذکورہ واقعہ میرے ساتھ پیش آیا، وہ میرے لیے قیامت کا ایک محدود تجربہ تھا۔ آدمی پیدا ہونے کے بعد اپنے ماں باپ اور اپنے رشتے داروں کے درمیان رہتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں اس کو فطرت کی طرف سے ایک مکمل قسم کا لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ملا ہوا ہے۔ آدمی اپنا ایک گھر بناتا ہے اور اپنے لیے تمام ضروری ساز و سامان کی ایک دنیا تعمیر کرتا ہے۔

ہر آدمی اپنی بنائی ہوئی دنیا میں آزادی کے ساتھ ایک مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ اچانک ایک سنگین واقعہ پیش آتا ہے۔ یہ موت کا واقعہ ہے۔ موت آدمی کو اس کی بنائی ہوئی دنیا سے مکمل طور پر جدا کر کے ایک اور دنیا میں پہنچا دیتی ہے۔ یہاں وہ اُن چیزوں سے محروم ہو جاتا ہے، جن کے درمیان وہ اپنی تمام ضروریات پوری کرتے ہوئے زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے دوست اور رشتے دار بھی اُس سے مکمل طور پر جدا ہو جاتے ہیں۔ اِس دوسری دنیا میں آدمی تنہا بھی ہوتا ہے اور پوری طرح بے سرو سامان بھی۔ 25 نومبر 1984 کو میرے ساتھ جو تجربہ گزرا، وہ میرے لیے اسی قسم کا ایک محدود تجربہ تھا۔ یہ موت کے بعد آنے والی دنیا کی ایک جزئی تصویر تھی۔ اگلی دنیا کی اِس قسم کی جزئی تصویر کبھی نہ کبھی ہر انسان کو دکھائی جاتی ہے، تاکہ وہ موت کے بعد سامنے آنے والے حالات کا پیشگی تعارف حاصل کر لے اور اس کے لیے ضروری تیاری کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page