Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
صرف اُسی انسان کو مل سکتا ہے جو حسنِ اسلام کو اپنا کنسرن(concern) بنائے اور غیر حسنِ اسلام کو شعوری فیصلے کے تحت مکمل طور پر چھوڑ دے۔ احمد آباد سے جیٹ ائرویز کی فلائٹ (9W0706) کے ذریعے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ احمد آباد سے جہاز ٹھیک ٹائم (8:30) پر روانہ ہوا۔ جہاز کے اندر بھی ہمارے ساتھیوں کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ یہاں بھی انھوں نے لوگوں کو دعوتی پمفلٹ دیا۔ انھوں نے جہاز کے عملہ اور اس کے کیپٹن مسٹر ارونِد سنگھ کور ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) کی ایک ایک کاپی دی۔ انھوں نے نہایت خوشی اور شکریہ کے ساتھ اس دعوتی پمفلٹ کو قبول کیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ ہم لوگ جہاز سے نکل کر ائربورٹ کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں دوبارہ ہمارے ساتھیوں نے دعوتی سرگرمی شروع کردی۔ وہ لوگوں سے ملتے تھے اور انھیں مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر دیتے تھے۔ لوگ نہایت خوشی کے ساتھ اس کو قبول کر رہے تھے۔ وہ بار بار تھینک یو (thank you) کہہ کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ہم لوگ ائربورٹ سے باہر آئے تو یہاں مسٹر اشوک کار کے ساتھ موجود تھے۔ ہم لوگ اُن کے ساتھ کار پر بیٹھ کر روانہ ہوئے اور 11 بجے رات کو نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) پہنچ گئے۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)۔
Watch Maulana Wahiduddin Khan's lectures live on USTREAM .tv English — Saturday 5.30 pm (IST)
Urdu — Sunday 10.30 am (IST)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues