Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱
عملہ (staff) سے مل کر اُن کو اسلامی پمفلٹ اور بروشر دیے۔ ایئر پورٹ میں داخل ہو کر ہم لوگ لاؤنج (lounge) میں بیٹھ گئے۔ وہاں بھی ہمارے ساتھیوں نے لوگوں سے مل کر اُن کو ہندی اور انگریزی میں چھپا ہوا پمفلٹ دیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور ہم لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ ہم لوگ جب احمد آباد ایئر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے، اُس وقت ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی چیونگ گم (chewing gum) کا پیکٹ خرید کر لائے۔ وہ خود بھی چیونگ گم کھا رہے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک دوسرے ساتھی کی طرف چیونگ گم کا پیکٹ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بھی لیجیے۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے کہا کہ فوراً اس کو اپنے منہ سے نکال لیے اور اس کا بقیہ پیکٹ واپس کیجیے۔ یہ کوئی حقیقی ضرورت کی چیز نہیں ۔ یہ صرف ایک عادت ہے۔ اور عادت میں ہمیشہ کا ما (comma) لگا رہتا ہے، اس میں کبھی فل اسٹاپ نہیں آتا۔ ہماری ٹیم ایسی کسی چیز کا تحمل نہیں کر سکتی جو صرف ایک غیر ضروری چیز کی حیثیت رکھتی ہو۔ عادت کیا ہے ۔ عادت یہ ہے کہ کوئی کام آدمی بار بار کرتا رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو آدمی اُس کام کو سوچے سمجھے بغیر خود بخود کرتا رہتا ہے۔ اُس کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں فلاں غیر ضروری کام کر رہا ہوں ۔ مثلاً ہاتھ کی انگلیاں توڑنا، کرسی پر بیٹھ کر پاؤں ہلانا، ہنسی مذاق کرنا، جوک (joke) چھوڑنا، زیادہ بولنا، بناوٹی بات کرنا، جھوٹ بولنا، بلا ضرورت اورزور زور سے ہنسنا، دوران کلام بیچ میں بولنا، ٹیلی فون پر زور سے بات کرنا، پانی اور لائٹ کا بے جا استعمال کرنا، وغیرہ۔
اِس موقع پر میں نے اپنے ساتھیوں کو ایک حدیث سنائی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: مِنْ حُسْنِ اسلام المرء ترکه ما لا يعنيه (الترمذی، کتاب الزهد) یعنی آدمی کا حسن اسلام یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کر دے۔
میں نے کہا کہ اس حدیث کے مطابق ، ایک اسلام وہ ہے جو صرف رسمی نوعیت کا اسلام ہو۔ اور دوسرا اسلام وہ ہے جو ”حسنِ اسلام‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایمان اور اسلام کا اعلیٰ ذائقہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues