تاثراتِ سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴
مختلف علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ الرسالہ مشن سے وابستگی کے بارے میں گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (وفات : 1999) نے ندوۃ العلماء کے مسلک کو ایک لفظ میں ’’قدیم صالح‘‘ اور ’’جدید نافع‘‘ کہا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ: تاسست ندوۃ العلماء علی الجمع بين القديم الصالح والجديد النافع۔ ایسی حالت میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ الرسالہ مشن سے جڑ کر میں عین ندوۃ العلماء کے مسلک (قدیم صالح، جدید نافع) پر کھڑا ہوا ہوں۔ ندوۃ العلماء کے مسلک کے مطابق، ’’قدیم صالح‘‘ کی معرفت میں نے ندوہ سے حاصل کی۔ اور اب ’’جدید نافع‘‘ کی معرفت میں الرسالہ مشن کے ذریعے حاصل کر رہا ہوں۔
میری بات سن کر مولانا رابع حسنی صاحب بے ساختہ طور پر مسکرائے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ چوں کہ آپ سے تعلق ہے، اس لیے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ آپ معتدل ذہن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مزید کام لے اور خصوصی توفیق عطا فرمائے۔ گفتگو کے دوران میں نے صدر اسلامی مرکز مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب کو بتائے۔ یہ واقعات تواضع اور اخلاص اور خدا کی اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھنے والے واقعات تھے۔
میں نے ایک بات یہ کہی کہ مولانا کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مولانا ایک خالص عملی انسان ہیں۔ میں نے پایا کہ اُن کی تحریر اور ان کی حقیقی زندگی دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، دونوں کے درمیان میں نے کوئی فرق نہیں پایا۔ جس جنت کی طرف وہ لوگوں کو بلاتے ہیں، اُس کے وہ خود سب سے زیادہ حریص ہیں۔ جس جہنم سے وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں، اِس سے وہ خود سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان کی تحریریں خود ان کی اپنی زندگی کا عکس ہیں، وہ دور کے کسی شخص کا تعارف نہیں۔
میں نے اس سلسلے میں مولانا کی زندگی کے کئی چشم دید واقعات بیان کیے ۔ ان واقعات کو سن کر مولانا نے کہا کہ آپ نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کے بارے میں جو باتیں بتائیں، وہ میرے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues