تاثراتِ سفر
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵
علم میں نہیں تھیں ۔ ان واقعات کو سن کر میرے دل میں مولانا کی مزید قدر پیدا ہوگئی ہے۔ اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول کرے اور اُنھیں صحت و عافیت عطا فرمائے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ایک کتاب (ہند۔ پاک ڈائری) میں نے مولانا کی خدمت میں پیش کی ۔ مولانا نے نہایت خوشی کے ساتھ اُس کو لیا اور کہا کہ میں ضرور اِس کو پڑھوں گا۔ میں نے مولانا سے دریافت کیا کہ آپ کو الرساله مل رہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہاں ، الرساله بہت پابندی سے مل رہا ہے۔ اسفار کی وجہ سے وقت پر میں اس کو دیکھ نہیں پاتا، البتہ سفر سے واپسی کے بعد میں اس کو دیکھتا ہوں۔ آخر میں مولانا رابع حسنی ندوی نے سیرت رسول کے موضوع پر اپنی ایک تازہ تصنیف اپنے دستخط کے ساتھ مجھ کو عنایت فرمائی۔ اِس کتاب کا نام یہ ہے ــــ رہبر انسانیت ۔
مغرب کی نماز کے بعد مہتمم دار العلوم مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی (1934) سے ملاقات کے لیے میں ندوہ سے متصل ان کی رہائش گاہ (مکارم نگر) پہنچا۔ مولانا محترم میرے استاد ہیں۔ میں نے اُن سے عربی ادب اور انشاء پڑھی ہے۔ اس کے علاوہ ، مولانا سے میرے خاندانی نوعیت کے قریبی تعلقات ہیں۔ ندوہ کے زمانہ طالب علمی میں میں نے مولانا کے کچھ مضامین کی کتابت کی تھی ۔ یہ مضامین ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوگئے ہیں۔ اُس کتاب کا نام ہے ـــــ اُسوہ حسنہ کے آئینے میں ۔ ملاقات کے دوران میرے ساتھ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی، اور مولانا محمد آفتاب عالم ندوی (القرآن انسٹی ٹیوٹ، امین آباد، لکھنؤ) بھی موجود تھے۔
میں نے مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی سے معلوم کیا کہ آپ کو الرساله مل رہا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہاں ، الرساله پابندی سے مل رہا ہے۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا مولانا وحید الدین خاں صاحب ہر وقت غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں، لکھنے پڑھنے کے اوقات کے علاوہ، اُن کا مشغلہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے مسلسل غوروفکر۔
میں نے کہا کہ اپنے براہ راست ذاتی مشاہدے کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کی سب سے بڑی عبادت "التفکر والاعتبار" ہے۔ میری بات سن کر مولانا سعید الرحمن الاعظمی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2009 All issues