جہاد اسلام میں
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۵
جہاد اسلام میں
جہاد کے لفظی معنی پر امن جد و جہد (peaceful struggle) کے ہیں ۔ یہ پر امن جد و جہد دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوتی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وجاهد هم به جهاداً كبيراً (الفرقان: 52) یعنی تم اُن سے قرآن کے ذریعے جہاد کرو، بڑا جہاد۔ قرآن کے ذریعے جہاد یقینی طور پر قتال کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن کے ذریعے جہاد کا مطلب ہے پر امن دعوتی جہد و جہد ۔ جہاد اپنے ابتدائی مفہوم کے اعتبار سے یہی ہے کہ قرآن کے پیغام کو عمومی طور پر پھیلانے کے لیے پر امن کوشش کی جائے ۔ یہی وہ جہاد ہے جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ قیامت تک مسلسل طور پر جاری رہے گا (ابو داؤد، رقم الحدیث 2532) جہاد اپنے تو وسیعی مفہوم میں قتال (war) کے معنی میں آتا ہے۔ اس دوسرے معنی میں جب جہاد کا لفظ آئے تو اس سے مراد وقتی نوعیت کا مدافغانہ قتال ہوگا۔ جہاد به معنی قتال کو ایک مسلسل عمل کے طور پر نہیں لیا جا سکتا، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایسا نہیں کیا۔ رسول اللہ کی زندگی میں بار بار ایسے مواقع آئے، جب کہ فریق ثانی آپ کو قتال میں الجھانا چاہتا تھا، مگر آپ نے ہر ایسے موقع پر قتال سے اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ مثلاً ہجرت کے وقت، خندق کے وقت، حدیبیہ کے وقت، وغیرہ۔ مذکورہ اصول کی روشنی میں احادیثِ جہاد کو سمجھا جا سکتا ہے۔ قرآن اور حدیث میں جہاد کا لفظ جہاں دعوت کے لیے استعمال ہوا ہے، اگر وہاں جنگ کے ساتھ تخصیص کا قرینہ موجود نہ ہو تو اس کو پر امن دعوتی عمل کے معنی میں لیا جائے گا، جس کے لیے یہ مطلوب ہے کہ وہ مسلسل طور پر امت کے اندر جاری رہے۔ اور جہاں اُس سے قتال کی تخصیص ثابت ہوتی ہو، وہاں اُس سے مراد وقتی نوعیت کی دفاعی جنگ ہوگی، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: اعلموا أن الجنة تحت ظلال السيوف (صحیح البخاری، کتاب الجہاد)۔ جہاد بہ معنی قتال اگر مستقل طور پر مطلوب ہوتا تو اس کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ نہ ہوتے: لا تتمنوا لقاء العدو، وسلوا الله العافية (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مد بھیڑ کی تمنا نہ کرو، اور اللہ سے عافیت مانگو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues