رفیقِ اعلیٰ کی طرف
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۶
رفیقِ اعلیٰ کی طرف
قرآن کی سورہ نمبر 66 میں بتایا گیا ہے کہ قدیم شاہِ مصر کی مومن بیوی آسیہ کے لیے جب بادشاہ نے موت کا حکم صادر کیا تو اس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: ربِّ ابن لی عندک بیتاً فی الجنة (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، تو میرے لیے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے۔ یہ عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی ایک دعا ہے۔ یہی دعا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے آخر وقت میں پیغمبرانہ انداز میں اس طرح نکلی: اللهم الرفیق الأعلیٰ۔ (اے اللہ، رفیقِ اعلیٰ)۔ یہ دونوں دعائیں اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہم معنی ہیں۔ پہلی دعا عام مومن کے الفاظ میں کی ہوئی دعا ہے، اور دوسری دعا پیغمبرانہ سطح پر ایک نبی کی زبان سے نکلی ہوئی دعا۔ یہ دونوں دعائیں دراصل موت کی نسبت سے مومنانہ جذبات کا اظہار ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مومن پر جب موت کا لمحہ آئے تو اس کا احساس مذکورہ قسم کی دعا میں ڈھل جائے۔ اس وقت مومن کا احساس یہ ہونا چاہیے کہ جب اہلِ دنیا سے میرا ساتھ چھوٹے تو مجھے خداوندِ ذوالجلال کی قربت حاصل ہو جائے۔ مجھے انسانوں کی مجلس سے اٹھنا پڑے تو مجھے فرشتوں کی مجلس میں شامل ہونا نصیب ہو جائے۔ جب موت مجھے اپنے لوگوں سے منقطع کر دے تو میں اکیلا نہ ہو جاؤں، بلکہ مجھے اعلیٰ تر مجلس میں خدا کی معیت کی نعمت حاصل ہو جائے۔ میرا سفرِ موت میرے لیے رفاقتِ ادنیٰ سے رفاقتِ اعلیٰ کی طرف سفر بن جائے۔ مذکورہ دعا کی حیثیت محض دعائیہ الفاظ کی نہیں ہے۔ وہ سچے مومن کی داخلی تڑپ کا لفظی اظہار ہے۔ ایک سچے مومن کی تمنا یہ ہوتی ہے کہ موجودہ مرحلۂ حیات کے مقابلے میں اگلا مرحلۂ حیات اس کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہو۔ موجودہ دار الامتحان میں اس کو خدا کی جو نعمتیں عارضی طور پر ملی ہوئی ہیں، وہ نعمتیں اس کو موت کے بعد کی دنیا میں زیادہ اعلیٰ طور پر خدا کے ابدی انعامات کی صورت میں عطا ہو جائیں۔ موت میرے لیے ناقص دنیا (imperfect world) سے نکل کر، کامل دنیا (perfect world) میں داخلے کا ذریعہ بن جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues