Al-Risala · August 2009 · page 10

ہدایت کس کے لیے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰

کوئی اور انتخاب نہیں۔ اس معاملے میں تیسرے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ آدمی افکار کے جنگل میں بھٹکتا رہے اور پھر اسی حال میں مرجائے۔ اس ہیمرنگ کو قبول کرنا اپنے ساتھ سب سے بڑی خیر خواہی ہے، اور اس ہیمرنگ کو قبول نہ کرنا اپنے ساتھ سب سے بڑی دشمنی۔

خالق فطرت نے موجودہ دنیا میں ہماری مدد کے لیے ایک انتظام یہ کیا ہے کہ ہر غیر مرئی (invisible) چیز کے لیے مرئی (visible) نمونے قائم کر دیے ہیں۔ اس معاملے کا ایک اظہار، خالق نے چیونٹی (ant) کی صورت میں کیا ہے۔ چیونٹی بہ ظاہر ایک بہت چھوٹی مخلوق ہے، لیکن وہ ہمارے لیے ایک نہایت سبق آموز عمل کرتی ہے۔ چیونٹی کا معاملہ یہ ہے کہ شکر (sugar) اس کی خوراک ہے، لیکن نمک (salt) اس کی خوراک نہیں۔ اگر آپ ایسا کریں کہ نمک کے ڈھیر کے ساتھ شکر ملا کر رکھ دیں، تو اگر چہ بہ ظاہر نمک اور شکر دونوں کا رنگ ایک ہوگا، لیکن چیونٹی جب وہاں آئے گی تو وہ اس ڈھیر میں سے صرف شکر کو لے گی اور نمک کو وہ پوری طرح چھوڑ دے گی۔ چیونٹی یہ عمل بے خطا انداز میں کرتی ہے۔ چیونٹی کبھی اس معاملے میں ایسا نہیں کرتی کہ وہ نمک کو لے لے اور شکر کو چھوڑ دے، یا ان کے درمیان تفریق کیے بغیر ایسا کرے کہ وہ کچھ مقدار نمک سے لے اور کچھ مقدار شکر سے لے لے۔

یہ چیونٹی کی مثال ہے۔ انسان کو بھی یہی نمونہ اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی حساسیت (sensitivity) کو جگائے، وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے کہ جو چیز درست ہے، اُس کو لے اور جو چیز درست نہیں ہے، اس کو چھانٹ کر الگ کر دے۔ کسی عورت یا مرد کے لیے سب سے زیادہ ضروری چیز صحیح طرزِ فکر (right thinking) ہے اور مذکورہ عمل کو انجام دیے بغیر کوئی شخص صحیح طرزِ فکر کا حامل نہیں بن سکتا۔ قرآن کے بیان کے مطابق، صحیح طرزِ فکر کے حامل انسان کے پاس ایک روشنی ہوتی ہے جو ہر وقت اس کی رہ نمائی کرتی رہتی ہے اور جس کے پاس صحیح طرزِ فکر نہ ہو، وہ گویا کہ ایک ایسے اندھیرے میں بھٹک رہا ہے، جس سے نکلنا اس کے لیے ممکن نہیں (الأنعام: 123)۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page