Al-Risala · August 2009 · page 9

ہدایت کس کے لیے

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۹

ہدایت کا تعلق صحیح طرزِ فکر سے ہے، نہ کہ افکار کے اس جنگل میں گم ہو جانے سے۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر صحیح طرزِ فکر (right-thinking) کیسے پیدا کرے۔ اس کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ انسان اپنے اندر وہ صفت پیدا کرے جس کو آرٹ آف سارٹنگ آؤٹ (art of sorting out) کہا جاتا ہے، یعنی مختلف قسم کی معلومات کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کرنا، صحیح اور غلط میں فرق کرنا، متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کو ایک دوسرے سے الگ کرنا، کسی چیز کو غلط زاویہ (wrong angle) سے نہ دیکھ کر اس کو صحیح زاویہ (right angle) سے دیکھنا۔ منطقی (logical) اور غیر منطقی (illogical) بات کے درمیان تمیز کرنا، وغیرہ۔ معلومات کے درمیان چھانٹنے (sorting-out) کا یہ عمل کسی آدمی کے لیے اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ غلط رائے قائم کرنے سے بچے اور درست رائے تک پہنچ جائے۔ یہ مسئلہ ہر عورت اور ہر مرد کا مسئلہ ہے۔ ہر عورت اور مرد کو لازمی طور پر اپنے ذہن میں یہ عمل (process) جاری کرنا ہے۔ یہی واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ معلومات کے جنگل میں رہتے ہوئے صحیح طرزِ فکر کو اختیار کر سکے۔

افکار کو سارٹ آؤٹ (sortout) کرنے کے اس عمل کا دوسرا نام ڈی کنڈیشنگ (de-conditioning) ہے۔ ڈی کنڈیشنگ کے انتہائی سنجیدہ عمل کے ذریعے ہی اس کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر اس عمل کے دو طریقے ہیں، یعنی یا تو خود اپنی کوشش سے اس کو انجام دینا، یا دوسروں کو اس کا موقع دینا کہ وہ اس عمل میں آپ کی مدد کریں۔ پہلی قسم کا طریقہ محاسبہ (introspection) کا طریقہ ہے۔ اور دوسری قسم کے طریقے کو تنقید (criticism) کہا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں قسم کا عمل اُسی وقت مفید ہو سکتا ہے، جب کہ اُس کو پوری شدت کے ساتھ اور بے رحمانہ انداز میں کیا جائے۔ اس بے رحمانہ محاسبہ کو دوسرے لفظوں میں، داخلی ہیمرنگ (internal hammering) کہا جا سکتا ہے۔ اور اس بے رحمانہ تنقید کو دوسرے لفظوں میں، خارجی ہیمرنگ (external hammering) کہا جا سکتا ہے۔ جو عورت اور مرد اپنی حقیقی اصلاح کا طالب ہو، اس کے لیے اس بے رحمانہ عمل کے سوا

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page