آیت یا معجزہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶
آیت یا معجزہ
خدا کے پیغمبروں نے اپنے معاصرین کو جو نشانیاں دکھائیں، اُن کو عام طور پر معجزہ کہا جاتا ہے، مگر یہ اسلامی تعبیر نہیں۔ ان پیغمبرانہ واقعات کو قرآن اور حدیث میں معجزہ (miracle) کا نام نہیں دیا گیا ہے، بلکہ ان کو آیت (sign) کہا گیا ہے۔ معجزہ (miracle) کہنا گویا کہ ایسے کسی واقعے کو پیغمبرانہ ظاہر (prophetic phenomenon) قرار دینا ہے، جب کہ ایسے کسی واقعے کو آیت (sign) کہنا اس کو فطری ظاہر (natural phenomenon) بتانا ہے۔
حضرت موسیٰ ایک پیغمبر تھے۔ وہ قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ پندرہویں صدی قبل مسیح میں ان کا مقابلہ اُس وقت کے مصری بادشاہ فرعون (Pharaoh II) سے ہوا۔ بادشاہ کے مطالبے پر حضرت موسیٰ نے اپنی ایک نشانی دکھائی۔ وہ نشانی یہ تھی کہ انھوں نے اپنا عصا زمین میں ڈالڈا، تو وہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ اس واقعے کو بہت سے لوگوں نے دیکھا۔ کچھ لوگ اس سے متاثر ہوئے اور وہ حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ کے معاصرین (contemporaries) کے لیے نہ تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک چشم کشا نشانی (eye-opening sign) کی حیثیت رکھتا تھا۔ ہر زمانے کے لوگوں کے لیے اس کے اندر ایک عظیم سبق تھا۔ حضرت موسیٰ نے دراصل لوگوں کو خدا کے ایک ابدی اور عمومی قانون کا مشاہدہ کرایا۔ یہ قانون کنورژن کا قانون (law of conversion) تھا۔ حضرت موسیٰ نے خدا کی مدد سے لکڑی کے ایک ٹکڑے کو سانپ کی شکل میں تبدیل کر کے دکھایا کہ اسی طرح عالم فطرت کی ہر چیز تبدیلی (conversion) کے ذریعے ایک صورت سے دوسری صورت اختیار کر رہی ہے، حضرت موسیٰ نے لوگوں کو جس واقعے کا مشاہدہ کرایا، وہ دراصل کنورژن کا یہی عمومی قانون تھا: Conversion: The act of changing something from one form to another form. کنورژن کے اس فطری اصول کا حوالہ خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 52 میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں غیر شی (nothing) شئی (thing) میں تبدیل ہو رہی ہے (الطور: 35)۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues