آیت یا معجزہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 76 میں بتایا گیا ہے کہ یہاں غیر مذکور (non-being) مذکور (being) میں تبدیل ہو رہا ہے (الدهر : 1)، وغیرہ۔
حضرت موسیٰ سولھویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور پندرھویں صدی قبل مسیح میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ زمانہ جدید سائنس سے پہلے کا زمانہ (pre-scientific period) تھا۔ اُس وقت اِس قسم کی نشانی صرف خدا کی خصوصی مداخلت (intervention) کے ذریعے ہی لوگوں کو دکھائی جاسکتی تھی۔ جدید سائنس کے ظہور نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ فطرت کے اس واقعے کو خود انسانی علم کے ذریعے دریافت کیا جا سکے۔ مستقبل میں پیش آنے والے اس سائنسی انقلاب کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا (حٰم السجدة: 53)۔ کائنات میں مختلف اور متنوع قسم کی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام چیزیں کنورژن کے اصول پر وجود میں آئی ہیں، یعنی ایک چیز کا بدل کر دوسری چیز کی صورت اختیار کر لینا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہ ہوا کہ ایک چیز جو سانپ نہیں تھی، وہ سانپ بن گئی۔ یعنی نا سرپنٹ (non-serpent) سرپنٹ میں تبدیل ہو گیا۔ یہی معاملہ اس دنیا میں ہر چیز کا ہے۔ یہاں غیر آب (non-water) آب (water) میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی طرح غیر درخت (non-tree) درخت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہاں نان لائٹ (non-light) لائٹ میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ یہاں نان انرجی (non-energy) انرجی کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ یہاں نان آکسیجن (non-oxygen) آکسیجن میں تبدیل ہو رہا ہے، وغیرہ۔
فطرت کے نظام میں کنورژن کا یہ قانون نہایت اہم ہے۔ وہ خدا کے وجود کو اور اس کی ربوبیت کو ثابت کر رہا ہے۔ اس معاملے میں کنورژن کا مطلب ہے مداخلت (intervention)۔ چیزوں کا یہ طریق کنورژن وجود میں آنا، اس معاملے میں مداخلت کو ثابت کرتا ہے۔ اور جب مداخلت کا فعل ثابت ہو جائے تو مداخلت کرنے والا اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے:
Conversion proves intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved, and God is only the other name of this intervenor.
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues