حلال کو حرام بنانا
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲
حلال کو حرام بنانا
روزی کمانا ہر آدمی کی ایک ضرورت ہے۔ لوگ مختلف کام کر کے اپنے لیے روزی حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً سروس، بزنس، زراعت، وغیرہ۔ یہ تمام طریقے روزی کمانے کے جائز طریقے ہیں۔ آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ ان ذرائع میں سے جس ذریعے کو چاہے، اختیار کرے۔
لیکن روزی کمانے کا ایک طریقہ جائز ہے اور دوسرا طریقہ ناجائز۔ جائز وہ ہے جو امانت داری (honesty) کا طریقہ ہے، اور ناجائز طریقہ وہ ہے جو خیانت (dishonesty) کا طریقہ ہے۔ اس معاملے میں شریعت میں سخت تاکید آئی ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ صرف جائز طریقے سے اپنی روزی کمائے، وہ کبھی ناجائز طریقے کا استعمال نہ کرے۔
مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان ضرورت (need) کی حد پر قائم نہیں رہتا، وہ حرص (greed) کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس حرص کی سب سے زیادہ بری شکل وہ ہے جب کہ آدمی حلال روزی کو حرام روزی بنا کر استعمال کرے۔ مثلاً سروس کرنا، لیکن ڈیوٹی کو درست طور پر انجام نہ دینا، بزنس کرنا اور کسٹمر کو دھوکہ دے کر پیسہ کمانا، وغیرہ۔ اس قسم کی عادتوں کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی حلال روزی کو حرام روزی بنا کر استعمال کر رہا ہے۔ اُس کو جائز رزق ملتا تھا، لیکن اٗس نے غیر ضروری طور پر اُس کو اپنے لیے ناجائز رزق بنالیا۔
یہ معاملہ بے حد سنگین معاملہ ہے۔ اکثر لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ بڑھی ہوئی حرص کی بنا پر اپنی حلال روزی کو اپنے لیے حرام روزی بنا لیتے ہیں۔ اِس کے بعد خوب صورت باتیں کر کے وہ اپنی غلطی کو چھپاتے ہیں۔ وہ جھوٹ بول کر اپنی کم زوری پر پردہ ڈالتے رہتے ہیں۔ وہ بے اصولی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں اور اِسی کے ساتھ خوب صورت الفاظ کے ذریعے وہ اپنے کو با اصول ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ اُن کا یہ طریقہ برائی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ ایسے لوگ خواہ انسانوں کے سامنے اچھے بنے رہیں، لیکن خدا کی نظر میں وہ نہایت مبغوض انسان ہیں، آخرت میں وہ سخت سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues