Al-Risala · August 2009 · page 21

سائنس دانوں کا مذہب

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱

گا۔ کیوں کہ انطباقی سائنس میں مادی مفاد (material interest) بہت زیادہ شامل ہو گیا۔ نظریاتی سائنس کے میدان میں مزید بڑا کام کرنے کے لیے نہایت اعلیٰ دماغ درکار ہے۔ صرف ڈگری یافتہ لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا بڑا سائنسی دماغ ایک ہے، اور وہ برطانیہ کا اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے نظریاتی سائنس کے میدان میں عملاً بھی کچھ بڑے کام کیے ہیں۔ مثلاً سنگل اسٹرنگ تھیوری (Single String Theory) جو توحید کے نظریے کو اصولی طور پر ثابت کرتی ہے۔ لیکن نظریاتی سائنس کے میدان میں کام کرنے کے لیے اعلیٰ سائنس دانوں کی ایک پوری جماعت درکار ہے۔ اور بدقسمتی سے آج ایسی جماعت موجود نہیں۔ جدید سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تدریجی طور پر سائنس اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس داں کائنات میں دماغ (mind) جیسے کسی عنصر کی کارفرمائی تسلیم کرتے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ دماغ کو ماننا بالواسطہ طور پر خدا کو ماننے کے ہم معنی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس بالواسطہ سائنس کو براہِ راست سائنسی اقرار کے درجے تک پہنچایا جائے۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی اور فکری کام ہے۔ یہ کام کوئی اعلیٰ سائنسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ یہ کام صرف وہ شخص انجام دے گا جو اعلیٰ ریاضیات (higher mathematics) کی زبان میں اس کو انجام دے سکتا ہو۔ شاید یہ کام ڈاکٹر عبد السلام (وفات : 1996) انجام دے سکتے تھے، جن کو 1979 میں سائنس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے تعصبانہ مزاج کی بنا پر یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page