ناقص علم کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵
ناقص علم کا مسئلہ
قدیم زمانے میں یونان کے بعض سیاح جب اپنے سفر سے واپس آئے، تو انھوں نے لوگوں کو ایک پر عجوبہ (wondrous) کہانی بتائی۔ اس کا مقصد صرف تفنن (humour) تھا۔ انھوں نے کہا کہ سیاحت کے دوران ہم ایک جزیرے میں پہنچے، اس جزیرے میں ہم نے ایک عجیب مخلوق دیکھی۔ اس مخلوق کا جسم تو بالکل گھوڑے جیسا تھا، لیکن اس کا سر انسان کے سر کی مانند تھا، یعنی وہ مخلوق اپنے جسم کے اعتبار سے گھوڑا اور اپنے سر کے اعتبار سے انسان تھی۔
لوگوں نے جب سیاحوں کی زبان سے اس قصے کو سنا، تو انھوں نے اس پر یقین کر لیا۔ کہانی لکھنے والوں نے اس پر عجوبہ مخلوق کا ذکر اپنی کہانیوں میں کیا۔ اس طرح نسل در نسل اُس کا چرچا ہوتا رہا، یہاں تک لوگ اِس بے اصل کہانی کو ایک حقیقی واقعہ سمجھنے لگے۔
موجودہ زمانے میں ہر چیز کا سائنٹفک مطالعہ کیا گیا ہے۔ اہلِ علم نے اس قصے کا بھی سائنٹفک تجزیہ کیا، پھر انھوں نے بتایا کہ ایسا ہونا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کسی ذی حیات مخلوق کو ہمیشہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی اعتبار سے نیچر نے ہر ایک کے نتھنے بنائے ہیں۔ انسان کا نتھنا (nostril) چھوٹا ہے اور گھوڑے کا نتھنا بڑا۔ اب اگر گھوڑے کے جسم کے ساتھ انسان کا سر جوڑ دیا جائے، تو گھوڑے کو کم آکسیجن ملے گی۔ آکسیجن کی کمی کے سبب سے وہ جلد ہی مر جائے گا: Human nostrils could not pass enough air to fill a horse's lungs. consquently, this kind of horse will die. A head like a man's could not exist in relation to any type of body differing from a man's. لوگ عام طور پر عجوبہ پسند ہوتے ہیں۔ چناں چہ آج بھی بہت سے لوگ ہیں جو اس قسم کی فرضی کہانیوں کو واقعہ سمجھے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اپنے اس مزاج کی یہ بھاری قیمت دینی پڑتی ہے کہ ان کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جاتا ہے۔ وہ اپنی عجوبہ پسندی کی بنا پر حقیقت پسندانہ روش اختیار کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues