زندگی کا خاتمہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۳۶
زندگی کا خاتمہ
26 ستمبر 2008 کو نئی دہلی کے پارلیمنٹ انکسی میں ایک خصوصی پروگرام تھا۔ اس پروگرام کو نئی دہلی کے ایف اے این ایس (Foundation for Amity & National Solidarity) نے آرگنائز کیا تھا۔ اس کے صدر لوک سبھا کے اسپیکر مسٹر سوم ناتھ چٹرجی تھے۔ اس موقع پر مشہور جرنلسٹ خشونت سنگھ (پیدائش: 1915) کو نیشنل ایمٹی ایوارڈ دیا گیا۔ اسٹیج سے مسٹر خشونت سنگھ کے تعارف میں جو تقریر ہوئی، اُس میں بتایا گیا کہ زندگی کے بارے میں مسٹر خشونت سنگھ کا نظریہ یہ ہے کہ: Enjoy good things in life. مگر خود مسٹر خشونت سنگھ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے اس نظریے کی زندہ تردید بنے ہوئے تھے۔ تقریباً 95 سال کی عمر کو پہنچ کر وہ بہت کم زور ہو چکے تھے، وہ جھک کر چلتے تھے، ان کے اوپر مایوسی چھائی ہوئی تھی، چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میں نے سوچا کہ انسان، دنیا میں انجوائے کرنے کا نظریہ بناتا ہے، حالاں کہ اس کے لیے مقدر ہے کہ وہ بہت جلد انجوائے کرنے کے قابل ہی نہ رہے: Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy anything. یہ صرف ایک شخص کی کہانی نہیں، یہی پوری تاریخ کی کہانی ہے۔ ہر زمانے میں انسان کا یہی حال ہوا ہے کہ وہ اپنے لیے خوشیوں کا ایک محل بنانا چاہتا ہے، لیکن آخر میں بڑھاپا آتا ہے اور اس کے سارے منصوبے کو نا کام کر دیتا ہے۔
یہاں انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ پر نظرثانی کرے۔ لیکن انسان اپنی سوچ پر نظرثانی نہیں کر پاتا، یہاں تک کہ مایوسی کے ساتھ اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے، حالاں کہ اگر وہ اپنی سوچ پر نظرثانی کرے تو عین ممکن ہے کہ اس کی زندگی ٹریجڈی (المیہ) کے بجائے، کامیڈی (طربیہ) میں بدل جائے۔ اس کا خاتمہ امید پر ہو، نہ کہ ناامیدی پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues