خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶
خدا کے بغیر کائنات بے تعبیر
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) بیسویں صدی کا سب سے بڑا سائنس داں مانا جاتا ہے۔ وہ 1879 میں جرمنی میں پیدا ہوا، اور 1955 میں امریکا میں اس کی وفات ہوئی۔ 1921 میں اس کو فزکس کا نوبل پرائز دیا گیا۔
البرٹ آئن سٹائن نے عالم مادی کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ اُس نے اپنے مطالعے میں پایا کہ کائنات ایک بے حد با معنی وجود ہے۔ اُس کے ہر پہلو میں اتھاہ حکمتیں چھپی ہوئی ہیں۔ یہ حکمت ومقنویت کا ئنات میں کہاں سے آئی۔ آئن سٹائن نے کائنات کی بے پایاں حکمت کو دریافت کیا، لیکن اُس کے حکیم کو وہ دریافت نہ کر سکا۔ اُس نے تعجب کے ساتھ کہا۔ کائنات کے بارے میں سب سے زیادہ حسین تجربہ جو ہم کو ہوتا ہے، وہ پراسراریت کا تجربہ ہے:
The most beautiful experience we can have is the mysterious. البرٹ آئن سٹائن کا ایک دوسرا قول اس معاملے میں یہ ہے — فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم واقعہ یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے قابل فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. سائنس داں کو یہ مشکل کیوں پیش آئی، اس لیے کہ کائنات کی معنویت (meaning) کو تو اُس کے دماغ نے دریافت کیا، لیکن اس معنوی نظام کے خالق کو وہ دریافت نہ کر سکا۔ اس بنا پر وہ تعجب کے ساتھ کہتا ہے کہ جب کائنات کی معنویت انسان کے لیے قابل مشاہدہ ہے تو اس کے لیے وہ ہستی کیوں نا قابل مشاہدہ ہے جس نے کائنات میں اس معنویت کو پیدا کیا ہے، جب حکمت موجود ہے تو آخراس کا حکیم کہاں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے عقیدے کے بغیر کائنات بے معنی بن جاتی ہے۔ یہ صرف خدا کا عقیدہ ہے جو کائنات کی معنویت کو انسان کے لیے قابل فہم بناتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues