ترجیح کی غلطی
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸
ترجیح کی غلطی
مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی(وفات: 1979)کی صاحب زادی سیدہ حمیرامودودی(پیدائش: 1945) کی ایک کتاب (صفحات 96) چھپی ہے۔ اس کا ٹائٹل یہ ہے: ’’شجر ہائے سایہ دار‘‘ اس کتاب میں انھوں نے اپنے والد کے بارے میں لکھا ہے: ’’ابا جان ہم سے کہا کرتے تھے کہ اگر مجھے تمھاری تربیت کی پوری طرح مہلت ملتی تو تمھیں دنیا کی مثالی اولاد بناتا۔ چوں کہ میں تم پر بھرپور توجہ نہیں دے سکا، اس لیے تم سے باز پرس کا حق بھی نہیں رکھتا۔ میں نے اپنا وقت دین کے کاموں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا ہے، اس لیے تمھاری تربیت اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ ‘‘ (صفحہ 54) مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی کو پاکستان بننے کے بعد وہاں 32 سال کام کرنے کا موقع ملا۔ اس پوری مدت میں وہ صرف ایک کام کے لیے سرگرم رہے، پاکستان میں اسلامی ریاست بنانا۔ لیکن تجربہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے اس مقصد میں ایک فی صد بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اس کے برعکس، اگر وہ اپنے گھر کو اسلامی گھر بنانے پر توجہ دیتے تو جیسا کہ خود اُن کا احساس تھا، وہ اپنے گھر کو ایک مثالی گھر بنا سکتے تھے۔ اسی کا نام غلط ترجیح ہے۔ مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی کے لیے میدانِ سیاست میں کوئی مثبت نتیجہ برآمد کرنا ممکن نہ تھا، مگر وہ اس ناممکن دائرے میں سرگرم ہو گئے۔ اس کے برعکس، اپنے گھر کے دائرے میں مثبت نتیجہ نکالنا اُن کے لیے ممکن تھا، مگر وہ اس ممکن دائرے میں اپنے آپ کو سرگرم عمل نہ کر سکے۔ اسی کا نام مفکرانہ بے بصیرتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام رہنما اسی مفکرانہ بے بصیرتی کا شکار ہو گئے۔ موجودہ زمانے کے مشہور رہنمائوں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے اس معاملے میں بصیرت کا ثبوت دیا۔ موجودہ زمانے کے مسلم رہنمائوں کی یہی بے بصیرتی ہے جس نے مسلم ملت کو ہر جگہ بربادی سے دوچار کر رکھا ہے۔ بصیرت یہ ہے کہ آدمی نتیجہ خیز میدان میں اپنی کوشش صرف کرے۔ اور بے بصیرتی یہ ہے کہ وہ ایسے میدان میں چھلانگ لگا دے، جہاں کوئی مثبت نتیجہ (positive result) نکلنے والا ہی نہ ہو۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues