پاکستان کا موجودہ بحران
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
دشمن کے درمیان تمیز اٹھ جانا بتایا ہے، اسی کو مذکورہ حدیث میں تنا کر‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور افغانی طالبان کے درمیان جو سنگین صورت حال قائم ہے، وہ کسی بیرونی طاقت کی’’سازش‘‘ کی بنا پر نہیں ہے، وہ تمام تر مسلم لیڈروں کی خود اپنی بھیا نک غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے دو مبینہ غلطیوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
1- پاکستانی قیادت کی پہلی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے مفروضہ کشمیری جہاد کے لیے غیر فوجی طالبان کو مسلح کیا۔ یہ بلاشبہہ ایک غیر اسلامی فعل تھا، کیوں کہ اسلام میں اسلحے کا استعمال صرف باقاعدہ فوج کے لیے جائز ہے، غیر فوجی افراد یا تنظیموں (NGOs) کے لیے اسلحے کا استعمال جائز نہیں۔ اب پاکستان میں جو باہمی تشدد ہو رہا ہے، وہ اسی بھیا نک غلطی کی قیمت ہے۔ تقریباً یقینی ہے کہ آپریشن راہ راست سے موجودہ متشددانہ صورت حال کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔
2- دوسری بھیا نک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اور طالبان دونوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کو اپنا رکھا ہے۔ سیاسی تعبیر کا نقصان یہ ہے کہ اسلام اتباع (following) کے بجائے نفاذ (enforcement) کا موضوع بن جاتا ہے۔ اس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہلے پاکستان اور افغانستان میں سیاسی غلو (political extremism) آیا۔ اس کے بعد فطری طور پر ٹکڑاؤ کی سیاست شروع ہوئی، اور آخر میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ طاقت کے زور پر اسلامی قانون کو نافذ کیا جائے۔ چناں چہ طالبان کا نعرہ ہے—شریعت یا شہادت۔
پاکستان اور افغانستان دونوں جس نازک صورت حال سے دوچار ہیں، اس کا حل کیا ہے۔ اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو شریعت کی زبان میں توبہ کہا جاتا ہے، یعنی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف اور تشدد کی روش کو چھوڑ کر امن کی بنیادوں پر اپنے عمل کی از سر نو منصوبہ بندی۔ جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے، اُسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع واعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کا کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی، اور پاکستان اس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues