Al-Risala · August 2009 · page 34

ہولسٹک اپروچ

الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

ہولسٹک اپروچ

ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہمیشہ دعوت پر زور دیتے ہیں۔ آپ کا یہ انداز ایک رخا انداز (one-sided approach) ہے۔ ملت کے اور بہت سے مسائل ہیں۔ مثلاً تعلیم، سیاست اور اقتصادیات، وغیرہ۔ آپ کو مجموعی انداز (holistic approach) اختیار کرنا چاہیے۔ آپ کو کوشش کرنا چاہیے کہ ہماری ملت مجموعی انداز میں ہر اعتبار سے ترقی کرے ۔ یہ طرزِ فکر موجودہ زمانے میں بہت عام ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ غیر فطری اور غیر عملی طرزِ فکر ہے۔ مجموعی ترقی بذاتِ خود ایک مطلوب چیز ہے، لیکن ہر جدوجہد کا ایک نقطہ آغاز (starting point) ہوتا ہے۔ نقطہ آغاز سے شروع کر کے آپ مجموعے تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ مجموعے سے آغاز کرنا چاہیں تو آپ کہیں بھی نہیں پہنچیں گے۔ اسی کو ایک مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے:

My way is to begin from the beginning.

یہی فطرت کا قانون ہے۔ آپ ایک درخت اگانا چاہتے ہیں تو آپ بیج سے اس کا آغاز کرتے ہیں، نہ کہ مجموعی طور پر درخت سے۔ اسی طرح جب آپ ایک بلڈنگ بنانا چاہتے ہیں تو اس کی تعمیر کا آغاز ایک اینٹ سے ہوتا ہے، نہ کہ مجموعی طور پر پوری بلڈنگ سے۔ مسلمان کے لیے ان کی ملی جدوجہد کا آغاز دعوت الی اللہ ہے۔ دعوت الی اللہ سے آغاز کر کے بقیہ تمام چیزیں اپنے آپ حاصل ہوتی چلی جاتی ہیں— فکری تصحیح، عمل کی اصلاح، دوسرے انسانوں سے معتدل تعلقات، تعمیر و ترقی کا مزاج، علمی بیداری، مثبت سوچ، زمانہ شناسی، عالمی طرزِ فکر، غرض دعوت الی اللہ تمام صالح اوصاف کا سرچشمہ ہے۔ لوگوں کے اندر دعوت کو زندہ کرنا، اُن کے اندر تمام خوبیوں کو زندہ کرنا ہے۔ گویا کہ دعوت ایک بیج ہے۔ اور بیج بونے کے بعد پورا درخت اپنے آپ آگ کر تیار ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues

Printed page