حقیقی کیس، نفسیاتی کیس
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸
حقیقی کیس، نفسیاتی کیس
ایک صاحب بمبئی سے بھوپال آئے۔ رزرویشن کے مطابق، اُن کو بھوپال سے دہلی آنا تھا۔ وہ اتوار کی صبح کو دہلی پہنچنے والے تھے۔ اُن کا پروگرام یہ تھا کہ وہ دہلی میں اتوار کی صبح کو ساڑھے دس بجے ہونے والے سی پی ایس کی اسپرچول کلاس میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد وہ اتوار کی شام کو واپس چلے جائیں گے۔ لیکن بھوپال میں اُن کو اپنے گھر سے ایک ٹیلی فون ملا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اُن کے ایک رشتے دار کے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا ہے۔ ان کی ایک ہڈی میں فریکچر ہو گیا ہے۔ اس خبر سے وہ اتنا زیادہ مغلوب ہوئے کہ اپنا رزرویشن بدلا کر وہ بھوپال ہی سے بمبئی کے لیے روانہ ہوگئے۔ جب وہ بمبئی پہنچے تو اُن کے مذکورہ رشتے دار اسپتال کے انٹینسیو کیئر یونٹ (ICU) میں داخل ہو چکے تھے۔ وہ رشتے داروں کی بھیڑ کے ساتھ اسپتال میں باہر کھڑے رہے۔ صرف دو دن کے بعد وہ اپنے رشتے دار سے ملاقات کر سکے۔ مذکورہ صاحب اگر حسب پروگرام دہلی آتے اور سی پی ایس کی کلاس میں شریک ہو کر واپس جاتے، تب بھی وہی ہوتا جو ہوتا جو پروگرام بدل کر فوراً بمبئی واپس جانے کی صورت میں پیش آیا۔
اس طرح کی صورتِ حال ہر عورت اور مرد کے ساتھ اس دنیا میں پیش آتی ہے، لیکن تقریباً تمام لوگ وہی غلطی کرتے ہیں جو مذکورہ صاحب نے کی۔ وہ حقیقی کیس اور نفسیاتی کیس کے فرق کو سمجھ نہیں پاتے۔ وہ نفسیاتی کیس کو بھی وہی درجہ دے دیتے ہیں جو حقیقی کیس کو دینا چاہیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کی سرگرمیاں بے فائدہ ہو کر رہ جاتی ہیں۔
زندگی کا ایک اہم اصول وہ ہے جس کو فرق کا اصول (principle of differentiation) کہا جاتا ہے۔ دنیا میں جو معاملات پیش آتے ہیں، وہ اکثر ملے جلے ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کرنا جانے، وہ حقیقی معاملے اور غیر حقیقی معاملے کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھ سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues