خاموش تدبیر کا طریقہ
الرسالہ، اگست ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹
خاموش تدبیر کا طریقہ
انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے— ایک ہلکا دھکا ایک پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا سکتا ہے: A gentle push can move a mountain. اس مقولے میں ایک نہایت اہم بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ معتدل انداز میں کوشش ہمیشہ بڑے بڑے نتیجے پیدا کرتی ہے، اور پُر شور قسم کے ہنگامے نتیجے کے اعتبار سے ہمیشہ بے سود ثابت ہوتے ہیں۔ یہ مقولہ دراصل ایک قانونِ فطرت کو بتاتا ہے، اور قانونِ فطرت کے معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں— ایک، ہنگامہ خیز طریقہ۔ اور دوسرا، خاموش تدبیر والا طریقہ۔ ہنگامہ خیز طریقے سے صرف وقتی شور و شر پیدا ہوتا ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، خاموش منصوبہ اور پُر امن تدبیر کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہنگامہ خیز تدبیر صرف نقصان میں مزید اضافہ کرتی ہے، جب کہ خاموش تدبیر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی مزید نقصان کا باعث نہیں بنتی اور نشانے کے مطابق، اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل اصول ہے جس میں کوئی استثناء نہیں، نہ مذہبی انسان کے لیے اور نہ غیر مذہبی انسان کے لیے۔ موجودہ دنیا میں جب بھی کوئی آدمی کسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُس میں اس کا اپنا حصہ صرف پچاس فی صد ہوتا ہے، بقیہ پچاس فی صد کا تعلق اُس چیز سے ہوتا ہے جس کو قانونِ فطرت (law of nature) کہا جاتا ہے۔
قانونِ فطرت سے موافقت کے بغیر اس دنیا میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ اپنے مقصد کے لیے جو کوشش کی جائے، وہ حقیقت پسندانہ انداز میں کی جائے۔ حقیقت پسندانہ انداز میں کام کرنا، فطرت سے موافقت کرکے کام کرنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہی اس دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہ کریں، اُن کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2009 All issues