روزہ اور رمضان
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲
روزہ اور رمضان
رمضان کا مہینہ روزے کا مہینہ ہے۔ روزہ کسی رسمی عمل کا نام نہیں۔ روزہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تربیتی عمل ہے۔ روزے کا تعلق صرف ایک مہینے سے نہیں ہے، بلکہ اُس کا تعلق مومن کی پوری زندگی سے ہے، رمضان کے مہینے میں مقرر روزے داری کی صورت میں، اور سال کے بقیہ مہینوں میں غیر مقرر روزے داری کی صورت میں۔ گویا کہ روزے کا تعلق مومن کی پوری زندگی سے ہے، نہ کہ سال کے صرف ایک مہینے سے۔
حدیث میں روزے کے مہینے کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے (ھو شهر الصبر)۔ اس سے معلوم ہوا کہ روزے کی حقیقت صبر ہے، اور صبر وہ صفت ہے جس کا تعلق مومن کی پوری زندگی سے ہوتا ہے، نہ کہ صرف ہجری کیلنڈر کے ایک مہینے سے۔ مقرر روزہ بھوک پیاس کی صورت میں ادا کیا جاتا ہے، اور غیر مقرر روزہ زندگی کے مختلف معاملات میں صبر کی صورت میں۔
ذہن کا روزہ یہ ہے کہ آدمی کی سوچ محتاط انداز کی سوچ ہو، زبان کا روزہ یہ ہے کہ آدمی اپنے بولنے پر کنٹرول رکھے۔ عمل کا روزہ یہ ہے کہ آدمی جو کچھ کرے، اس میں وہ عدل و انصاف کی پابندی کرے۔
دنیا میں رہتے ہوئے ہر عورت اور ہر مرد کو مسلسل طور پر مختلف قسم کے معاملات پیش آتے ہیں۔ ان تمام معاملات میں اپنے آپ کو بے اصولی سے بچانا، اور ہمیشہ بااصول طریقہ اختیار کرنا، یہی وسیع تر معنوں میں غیر مقرر روزے داری ہے۔ اور حقیقی معنوں میں روزے دار وہ ہے جو مقرر روزے داری اور غیر مقرر روزے داری دونوں پہلوؤں سے اپنے آپ کو روزے دار ثابت کر سکے۔ جو آدمی رمضان کے مہینے کو اس طرح پائے کہ وہ اس کے لیے غیر مقرر روزے داری کی تربیت کا مہینہ بن جائے، وہی وہ انسان ہے جس نے رمضان کو پایا اور وہی وہ انسان ہے جس کو ریان کے دروازے سے جنت میں داخلے کی سعادت حاصل ہوگی، جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues