شعوری عبادت
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳
شعوری عبادت
عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الرجل ليكون من أهل الصلاة والصوم والزكاة والحج والعمرة، حتى ذكر سهام الخير كلها، وما يُجزى يوم القيامة إلَّا بقدر عقله (رواه البيهقي في شعب الإيمان، رقم الحديث: 4637) یعنی آدمی بظاہر نماز اور روزہ اور زکوۃ اور حج اور عمرہ کے عمل کرتا ہے، حتیٰ کہ آپ نے تمام اعمال خیر کا ذکر کیا، پھر آپ نے فرمایا مگر قیامت کے دن وہ صرف اپنی عقل کے بقدر اس کا بدلہ پائے گا۔ اس حدیث رسول میں 'عقل' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عقل سے مراد فہم (understanding) ہے۔ اس روایت میں عقل سے مراد وہی چیز ہے جس کو شعور کہا جاتا ہے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی ذکر و عبادت کے اعمال کرتا ہے، لیکن ان اعمال کا انعام ان کے فارم یا کمیت (quantity) کے اعتبار سے نہیں دیا جاتا، بلکہ اعمال کی اصل اسپرٹ کے اعتبار سے دیا جاتا ہے، کسی آدمی نے جس درجہ شعور کے ساتھ عبادت کی ہوگی، اُسی درجہ شعور کے اعتبار سے اس کے عمل کا انعام مقرر کیا جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی عبادت کرتا ہے، لیکن اُس کی عبادت، قرآن کے مطابق، سہو (absent-mindedness) کے ساتھ ہوتی ہے۔ بظاہر وہ عبادتی افعال کر رہا ہوتا ہے، لیکن شعور کے اعتبار سے وہ غفلت کی حالت میں ہوتا ہے۔ ایسا آدمی غیر مطلوب عبادت کر رہا ہے۔ ذکر و عبادت کی مطلوب صورت وہ ہے جب کہ آدمی کا وہ حال ہو جائے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ خدا کی یاد سے اُس کا دل دہل اٹھے (الأنفال: 2) اور اس کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں (الزمر: 23) یہ دوسرا آدمی زندہ شعور کے ساتھ ذکر و عبادت کا عمل کرتا ہے۔ خدا کے یہاں تمام بڑے بڑے انعامات اُس انسان کو دئے جائیں گے جس نے اس طرح زندہ شعور کے ساتھ ذکر و عبادت کا عمل کیا ہو۔ عبادت کے اس اعلیٰ درجے کو حاصل کرنے کے لیے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو غیر متعلق چیزوں میں مشغول ہونے سے بچائے اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے ترقی ایمان کی دعا کرتا رہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues