عجز کا تجربہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۶
عجز کا تجربہ
ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے : انا عند المنکسرة قلوبہم ( حلیۃ الأولیاء، جلد 2، صفحہ 364) یعنی میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مادی قسم کی بربادی، انسان کو خدا سے قریب کرتی ہے، مگر انسان اپنے کو برباد نہیں ہونے دیتا، اس لیے وہ خدا سے قربت کا تجربہ بھی نہیں کرتا۔
موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ انسان کے ساتھ بار بار ناکامی کے واقعات ہوں، وہ دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ لیکن انسان ہوشیاری کرتا ہے اور اپنے آپ کو اس قسم کے تجربات سے بچانے کے لیے سب کچھ کر ڈلتا ہے۔
اس ہوشیاری کی عام طور پر دو قسمیں ہیں ۔ ایک، یہ کہ صحیح طرز پر معاملہ کرنے میں جب اس کو کوئی نقصان ہوتا ہوا نظر آتا ہے تو وہ فوراً غلط طریقے اختیار کر کے اپنے آپ کو نقصان سے بچانے کی کوشش میں لگ جاتا ہے۔ وہ انصاف اور دیانت داری کے طریقے کو چھوڑ کر، بے انصافی اور بددیانتی کا طریقہ اپنا لیتا ہے۔ اس طرح وہ بظاہر اپنی ناکامی کو کامیابی میں تبدیل کر لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار نہیں ہونے دیتا۔ حالاں کہ دل شکستگی کسی انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آدمی بھلا وہ کلچر کو اختیار کر لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دل شکستگی کے احساس سے بچانے کے لیے شراب پیتا ہے۔ نمائش تفریحات کے ذریعے اپنا دل بہلاتا ہے۔ وہ مصنوعی سرگرمیوں میں مشغول ہو کر اپنے آپ کو افسردگی کے احساس سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی فطری زندگی گزارے۔ وہ ہمیشہ اعتدال کے ساتھ رہے، وہ کسی بھی حال میں، جھوٹ اور بے انصافی کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ اس طرح وہ اُن لمحات سے محروم نہ ہوگا، جب کہ اس کے اوپر عجز کا احساس طاری ہو اور وہ قادرِ مطلق خدا کی قربت کا تجربہ کرے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues