Al-Risala · September 2009 · page 5

تجدید ایمان کی ضرورت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۵

تجدید ایمان کی ضرورت

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جدّدوا إيمانكم، قيل كيف نجدّد إيماننا، قال: أكثروا من قول لا إله إلا الله (مسند أحمد، رقم الحديث: 8353)۔ یعنی لا الہ الا اللہ کے کلمہ کے ذریعہ اپنے ایمان کی تجدید کرو۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ کلمہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو ایک بار پڑھ لیا جائے اور پھر وہ ہمیشہ کے لیے کافی ہو جائے، بلکہ بار بار اس کی تجدید ضروری ہے۔ تجدید کلمہ کا مطلب ہے شعورِ ایمان کو بار بار بیدار کرتے رہنا، تاکہ آدمی کے اوپر غفلت اور بے حسی کی حالت طاری نہ ہو۔ آدمی ہمیشہ زندہ اور متحرک ایمان کے ساتھ جی سکے۔

اس حدیث کا ایک اور پہلو ہے جو اس روایت سے معلوم ہوتا ہے: الإسلام يهدم ما كان قبله (صحیح مسلم، رقم الحديث: 192) یعنی اسلام قبل کی چیزوں کو ڈھاد دیتا ہے۔ اس معاملے کا ایک پہلو وہ ہے جو اُس وقت سے تعلق رکھتا ہے، جب کہ آدمی کلمہ پڑھ کر مومن بنا ہو۔ اس کا دوسرا پہلو وہ ہے جو بعد کی زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ ایمان لانے کے بعد بھی بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سے خطائیں سرزد ہوتی ہیں۔ محسوس کرتا ہے کہ میں خدا کی رحمت سے دور ہو گیا۔ اٌس وقت مومن کو یہ کرنا ہے کہ وہ خدا کو حاضر و ناظر جان کر دوبارہ اپنی تنہائیوں میں زندہ شعور کے ساتھ کلمہ ادا کرے۔ وہ کہے کہ: أشهد أن لا إله إلا الله، وأشhed أنّ محمداً عبده ورسوله۔ یہ کہہ کر وہ خدا سے دعا کرے کہ خدایا، میرے گناہوں کو معاف کر دے اور مجھ کو دوبارہ اپنی رحمتوں کے سائے میں لے لے۔ میں نے پھر سے ایمان قبول کیا، تاکہ پھر سے میں مومنین وصالحین کی جماعت میں شامل ہو جاؤں۔ خدایا، میں تیرے راستے سے بھٹک گیا تھا، تو میری پچھلی زندگی کو میرے دور جاہلیت میں شامل کر دے اور مجھ کو دوبارہ ایمان و اسلام کی زندگی عطا فرما دے۔ جو آدمی زندہ شعور کے ساتھ ایسا کرے، اُس کو بار بار نیا ایمان ملتا رہے گا۔ اس تجدیدِ ایمان کے نتیجہ میں اُس کا وہ حال ہو جائے گا جس کو حدیث میں كان كيوم ولدته أمه (صحیح البخاری، رقم الحديث: 1449) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی نومولود بچے کی طرح معصوم۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page