Al-Risala · September 2009 · page 9

دوسرا شجر ممنوعہ

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۹

یہ فطری نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تشدد خالق کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ اور اس قسم کی مداخلت بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔

موجودہ دنیا میں تشدد اور جارحیت سے پاک ماحول کس طرح بنایا جائے، اس کا جواب صرف ایک ہے— اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنے اوپر یہ ذمے داری لینا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر کریں، وہ تشدد کے تجربے کے باوجود عملاً بے تشدد بن جائیں۔ صرف اسی طرح تشدد سے پاک ماحول دنیا میں بن سکتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو مارنا چاہا تو ہابیل نے کہا: لئِن بسطتَ إليَّ يدک لتقتلني، ما أنا بباسط يديَ إليك لأقتلكَ، إنّي أخاف الله ربَّ العالمين (المائدۃ: 28) یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ تشدد پر یک طرفہ صبر کی یہ آخری مثال ہے جو آدم کے بیٹے ہابیل نے قائم کی۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں سیاسی بگاڑ پیدا ہوگا، مگر تم اپنے حکم رانوں سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرنا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر وہ خود ہمارے گھر میں ہم کو مارنے کے لیے آ جائیں تو ہم کیا کریں۔ آپ نے جواب دیا: فليكن خير ابني آدم (سنن أبى داؤد، کتاب الفتن) یعنی تم آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے بن جاؤ۔ یعنی خواہ تم دوسروں کے ہاتھ سے قتل ہو جاؤ، مگر تم خود دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرو۔

تشدد کی دو قسم ہے— ایک، غیر فعال تشدد (passive violence)۔ اور دوسرا، فعال تشدد (active violence)۔ غیر فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر ان سے نفرت کریں۔ اور فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر اُن کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کر دیں۔ یہ دونوں صورتیں اسلام میں یکساں طور پر گناہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ دونوں میں سے جس تشدد کا ارتکاب کریں، آپ شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ دونوں قسم کے تشدد کے درمیان صرف ظاہر کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page