Al-Risala · September 2009 · page 10

قیامت کا الارم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰

قیامت کا الارم

2 جولائی 2009 کو، دہلی ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے مطابق، بالرضا ہم جنسی (homosexuality) کو قانونی جواز دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ہم جنسی کا فعل ایک مجرمانہ فعل تھا۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں اس فعل کو ڈی کرمنلائز (decriminalize) کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ ناز فاؤنڈیشن کے مرافعه پر دیا گیا۔ ناز فاؤنڈیشن کی ایک ذمے دار خاتون انجلی گوپالن نے کہا: Now it seems we are in 21st century as the rights of homosexuals have been recognised by the court. This is very progresseive judgment which recognizes the right to equality of homosexuals. (The Hindustan Times, New Delhi, July 3, 2009, p. 15)

اس واقعے کی رپورٹ میڈیا میں تفصیل کے ساتھ آئی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی روزنامہ ہندوستان ٹائمَس میں یہ رپورٹ حسب ذیل عنوان کے تحت چھپی ہے___ ہم جنسی ایک جائز فعل ہے: It's okay to be gay یہ صرف انڈیا کی عدالت کے فیصلے کی بات نہیں۔ آج ہم جنسی کا یہ عمل پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، حتیٰ کہ امریکا کے صدر براک اوباما نے کھلے طور پر اس کی تائید کی ہے۔ اس عمل کا رواج پہلے بھی دنیا میں تھا، لیکن اب اس کو عمومی طور پر قانونی جواز (legal justification) کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، یہ بے حد سنگین بات ہے۔ یہ خالق کائنات کے غضب (wrath) کو دعوت دینے کے ہم معنی ہے۔ حضرت مسیح کے ظہور سے پہلے ایک قوم پائی جاتی تھی جس کا مسکن اُس علاقے میں تھا، جہاں اب بحر مردار (Dead Sea) واقع ہے۔ اُس قوم میں ہم جنسی کا فعل عام ہو گیا۔ پیغمبر لوط نے اُن کو انتباہ دیا اور اُنھیں اس فعل سے باز رہنے کو کہا، لیکن ان کی سرکشی اتنی زیادہ بڑھ گئی کہ وہ علی الاعلان ہم جنسی کا فعل کرنے لگے۔ تاریخ میں غالباً قوم لوط پہلی قوم ہے جس نے ہم جنسی کے فعل کو اختیار کیا۔ وہ کھلے طور پر اس فعل کا ارتکاب کرنے لگے۔ یہ قوم دریائے اردن کے کنارے جنوبی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page