Al-Risala · September 2009 · page 12

قیامت کا الارم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲

کے غضب (wrath) کا مستحق بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف نارمل قسم کی عدالتی سزا نہیں دی جاتی، بلکہ اُن پر خدائی عذاب آتا ہے، وہ زمین سے مٹاونئے جاتے ہیں، تاکہ خدا کی عدالت میں اُنھیں مواخذہ کے لیے کھڑا کیا جا سکے۔

موجودہ زمانے میں قومِ لوط کا فعل مزید اضافہ کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ پہلے یہ فعل صرف ایک اخلاقی برائی کے طور پر کیا جاتا تھا۔ اب اس کو نظریاتی طور پر ایک مبّرّر برائی (ideologicaly justified civil) کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا اس کو بلاروک ٹوک ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔ یہ صورت حال بے حد سنگین ہے۔ یہ اس بات کی ایک یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ قومِ لوط کو اس فعل پر ایک محدود علاقے میں تباہ کیا گیا تھا۔ اب بہ ظاہر یہ تباہی پورے کُرۂ ارض کی نسبت سے پیش آنے والی ہے۔ قرآن میں جس چیز کو قیامت (Doomsday) کہا گیا ہے، وہ اُسی واقعہ کا زیادہ بڑا اظہار ہے جو قومِ لوط کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر پیش آیا تھا۔ اب بہ ظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ عذاب ساری دنیا پر آنے والا ہے، اِسی آنے والے دن کا نام قیامت ہے۔ 2061 قبل مسیح میں قومِ لوط پر جو عذاب آیا، وہ گویا کہ ایک چھوٹی قیامت تھی، اب بہ ظاہر وہ وقت آگیا ہے جب کہ بڑی قیامت ظاہر ہو اور انسان عالمی سطح پر اُس تباہی کا سامنا کرے جس کا سامنا قوم لوط کو علاقائی طور پرپیش آیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page