Al-Risala · September 2009 · page 11

قیامت کا الارم

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱

شام کے علاقے میں آباد تھی۔ اس علاقے کے دو بڑے شہر سدوم اور عمورہ تھے۔ یہ علاقہ اُس زمانے میں خوب سرسبز وشاداب تھا۔ اِس قوم کی خوش حالی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خدا کی شاکر بننے کے بجائے عیش پرست اور سرکش بن گئی۔ اُس وقت خدا کے پیغمبر لوط ان کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے۔ قرآن کے مطابق، انھوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ’’کیا تم کھلی ہوئی بے حیائی کا کام کرتے ہو جس کو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا۔ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو، تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو‘‘ (الأعراف: 81-80)

حضرت لوط کی مسلسل نصیحتوں کے باوجود قوم لوط نے اپنی بری روش کو نہیں چھوڑا، حتی کہ وہ لوگ حضرت لوط اور آپ کے ساتھیوں کو اس علاقے سے نکال دینے پر آمادہ ہو گئے، اُس وقت اللہ تعالیٰ نے اُن کو سخت عذاب کے ذریعے ہلاک کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ایک دن کچھ فرشتے خوب صورت نوجوانوں کی صورت میں حضرت لوط کے گھر آئے۔ اُن کو دیکھ کر قوم کے لوگ برے ارادے کے تحت وہاں پہنچے۔ حضرت لوط اُنھیں دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ نوجوانوں نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں، وہ ہمارے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، ہم اس لیے آئے ہیں کہ ان کی بستیوں کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیں۔

چناں چہ اس کے بعد اُن پر ایک نہایت شدید زلزلہ آیا۔ یہ زلزلہ آگ اور پتھر کی بارش کی صورت میں تھا، جس نے اس خطۂ ارض کو بالکل تلپٹ کر دیا۔ حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر پوری قوم ہمیشہ کے لیے تباہ کر دی گئی۔ اِن لوگوں کی تعداد تقریباً چار لاکھ تھی۔ مورخین کے بیان کے مطابق، یہ واقعہ 2061 قبل مسیح میں پیش آیا۔ یہ علاقہ پہلے ایک سرسبز علاقہ تھا، لیکن آج وہ بحر مردار (Dead Sea) کی صورت میں قدیم تباہی کی ایک زندہ یادگار بنا ہوا ہے۔

قومِ لوط کا ذکر قرآن میں صرف ایک گزری ہوئی تاریخ کے واقعے کے طور پر نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کی طرف سے ایک سنگین الارم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی گروہ کھلے طور پر ہم جنسی کے فعل میں مبتلا ہو جائے اور نصیحت و فہمائش کے باوجود وہ اس سے باز نہ آئے تو ایسا گروہ خالق کائنات

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page