اجتماعیت کا راز
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸
اجتماعیت کا راز
زندگی میں اجتماعیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بڑے بڑے کام ہمیشہ اجتماعی جد و جہد کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ کسی گروہ کے لیے اجتماعیت سب سے بڑی طاقت ہے۔ اس کے مقابلے میں غیر اجتماعی زندگی اس کی سب سے بڑی کم زوری۔
اسلام میں اجتماعیت کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر روز پانچ وقت کی نماز کو اجتماعی انداز میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔ نماز اپنی شکل کے اعتبار سے، اجتماعیت کی ایک اعلیٰ تمثیل ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان نہایت بڑے پیمانے پر ہر روز نماز کی صورت میں مساجد میں اجتماعیت کا مظاہرہ کرتے ہیں، لیکن اُن کی عملی زندگی اجتماعیت سے بالکل خالی ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعیت حقیقی معنوں میں اُس وقت قائم ہوتی ہے، جب کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے، نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا۔
مسجد کی باجماعت نماز مسلمان اِس لیے پڑھ لیتے ہیں کہ اُس کی ادایگی میں کسی اختلاف کو برداشت کرنے کا معاملہ پیش نہیں آتا۔ مسجد کا وقتی اتحاد اختلاف کے بغیر اتحاد کی صورت میں ہوتا ہے، جب کہ مسجد کے باہر کی زندگی اختلافات سے بھر ہوئی ہوتی ہے۔ یہاں ضرورت ہوتی ہے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہو کر زندگی گزاری جائے، اختلافات (differences) کو نظر انداز کرتے ہوئے باہمی اتحاد کو قائم رکھا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ دوسری صفت موجود نہیں ، اِس لیے اُن کے یہاں حقیقی معنوں میں اجتماعی زندگی بھی موجود نہیں۔
رسمی عمل کے دوران وقتی طور پر متحد ہونا نہایت آسان ہے، لیکن حقیقی زندگی میں اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے اتحاد و اتفاق کو باقی رکھنا نہایت مشکل ہے۔ رسمی اتحاد ایک رٹین کے تحت قائم ہو سکتا ہے، لیکن حقیقی اتحاد شعور کی بیداری چاہتا ہے۔ مسلمانوں کے اندر شعور کی بیداری نہیں ، اِس لیے اُن کے اندر حقیقی اتحاد بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues