بے اطمینانی کا سبب
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹
بے اطمینانی کا سبب
موجودہ دنیا میں ہر عورت اور ہر مرد بے اطمینانی (dissatisfaction) کی نفسیات میں جیتا ہے۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ کھونے کے احساس میں جیتا ہے، نہ کہ پانے کے احساس میں۔ یہ حالت اتنی عام ہے کہ اس میں کوئی استثناء نہیں۔
اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب دراصل وہی ہے جس کو مجبوری وطن کا غم (home sickness) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے ، انسان جب پیدا کیا گیا تو اس کو جنت میں بسایا گیا تھا۔ گویا کہ جنت ہی انسان کا وطن ہے۔ اس کے بعد انسان کو جنت سے نکال کر کرۂ ارض (planet earth) پر بھیج دیا گیا۔ اس اعتبار سے گویا کہ تمام انسان جو موجودہ زمین پر ہیں، وہ پناہ گزیں (refugees) کی حیثیت سے یہاں رہ رہے ہیں۔ یہی لوگوں کی بے اطمینانی کا اصل سبب ہے۔ غیر شعوری طور پر ہر آدمی ہوم سک (homesick) بنا ہوا ہے۔ کوئی بھی تدبیر اس احساس کو دور کرنے والی ثابت نہیں ہوتی۔
اس مسئلے کا حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ لوگوں کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) سے باخبر کیا جائے۔ اُن کو بتایا جائے کہ وہ موجودہ زمین پر عارضی مدت کے لیے ہیں۔ اگر انھوں نے حسن عمل کا ثبوت دیا تو دوبارہ وہ جنت میں داخلے کی سعادت حاصل کر لیں گے۔ ایک آدمی اپنے وطن جانے کے لیے کسی سواری میں سفر کر رہا ہے۔ دوران سفر اس کو مختلف قسم کی پریشانیاں پیش آتی ہیں۔ لیکن وہ مطمئن رہتا ہے کہ چند گھنٹے کے بعد وہ اپنے وطن میں پہنچ جائے گا۔ اگر لوگ خدا کے تخلیقی پلان سے باخبر ہو جائیں تو بھی اسی طرح اپنے آپ کو وقتی مسافر سمجھیں گے۔ مستقبل کی کامیابی کا احساس اُن کے حال کی پریشانی کو ان کے لیے غیر اہم بنا دے گا۔ لوگوں کو بے اطمینانی اور ذہنی تناؤ (tension) سے نکالنے کی یہی واحد تدبیر ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی تدبیر اس معاملے میں کارگر نہیں ہو سکتی۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues