Al-Risala · September 2009 · page 20

بچوں کی اصلاح

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰

بچوں کی اصلاح

ایک مسلم خاتون نے کہا کہ آپ بچوں کی تربیت پر مضمون لکھیے۔ موجودہ زمانے میں بچوں کی اصلاح کی بہت ضرورت ہے۔ میں نے کہا کہ بچوں کی اصلاح پر بے شمار مضمون لکھے گئے ہیں۔ ہر روز بچوں کی اصلاح پر تقریریں ہو رہی رہیں، لیکن اس کا کوئی بھی نتیجہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی اصلاح کے معاملے میں اصل ضرورت مضمون یا تقریر کی نہیں ہے۔ اس معاملے میں اصل ضرورت یہ ہے کہ والدين اپنے بچوں کے معاملے میں اپنے رویے کو بدلیں۔ تمام والدین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ لاڈ پیار (pampering) کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہی لاڈ پیار بچوں کے بگاؤ کا اصل سبب ہے۔ جب تک والدین اپنے لاڈ پیار کو ختم نہ کریں، بچوں کی کوئی اصلاح نہیں ہو سکتی۔ میری بات سن کر مذکورہ خاتون نے کہا کہ بچوں کے ساتھ سختی بھی تو نہیں کی جا سکتی۔ میں نے کہا کہ میں نے آپ سے یہ نہیں کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ سختی کیجئے۔ میں نے صرف آپ سے یہ کہا تھا کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار کو چھوڑ دیجئے۔ والدین کا یہی مزاج بچوں کی خرابی کی اصل جڑ ہے۔ آپ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ لاڈ پیار نہ کرنا اُن کے ساتھ سختی کرنا ہے۔ والدین اپنے بچوں کے لیے اتنے حساس ہوتے ہیں کہ وہ لاڈ پیار نہ کرنے کو سختی کرنا سمجھ لیتے ہیں، اس لئے وہ لاڈ پیار کو چھوڑ نہیں پاتے۔ پھر میں نے کہا کہ آپ خواہ لاڈ پیار کتنا ہی زیادہ کریں، بچوں کے تقاضے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ بچے برابر اور زیادہ اور زیادہ کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ اس بنا پر والدین یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے ابھی کچھ نہیں کیا۔ ہم نے ابھی بچوں کے تقاضے پورے نہیں کئے ۔ اس بنا پر تمام والدین لاڈ پیار کے اس احساس میں مبتلا رہتے ہیں کہ ہم تو لاڈ پیار نہیں کر رہے ہیں۔ ان کے ذہن میں لاڈ پیار کا غلط معیار رہتا ہے، یعنی بچے جب مزید تقاضا نہ کریں تو وہ سمجھیں گے کہ ہم نے لاڈ پیار کیا۔ مگر خواہشات کے معاملے میں بچہ اور بڑا دونوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ ان کو کچھ بھی مل جائے، وہ ان کی خواہشوں سے کم ہوتا ہے۔ اس لئے ہمیشہ نئے تقاضے جاری رہتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page