Al-Risala · September 2009 · page 22

I think, therefore I am.

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲

خدا کا وجود

آج کی شام کے لئے جو موضوع ہے، وہ یہ ہے ــــ خدا کی دریافت کس طرح کی جائے: How to discover God? خدا کی دریافت کا معاملہ کوئی اکیڈمک معاملہ نہیں، یہ ہر انسان کا ایک ذاتی سوال ہے۔ ہر عورت اور مرد فطری طور پر اُس ہستی کو جاننا چاہتے ہیں جس نے اُن کو وجود دیا۔ میں بھی دوسروں کی طرح، اِس سوال سے دوچار ہوا ہوں۔ میری پیدائش ایک مذہبی ماحول میں ہوئی۔ اِس کے اثر سے میں روایتی طور پر خدا کو ماننے لگا۔ بعد کو جب میرے شعور میں پختگی (maturity) آئی تو میں نے چاہا کہ میں اپنے اِس عقیدے کو ریزن آؤٹ (reason out) کروں۔ اِس معاملے کی تحقیق کے لئے میں نے تمام متعلق علوم کو پڑھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، خدا کا موضوع تین علمی شعبوں سے تعلق رکھتا ہے— فلسفہ، سائنس اور مذہب۔ یہاں میں فلسفہ اور سائنس کی نسبت سے اپنے کچھ تجربات بیان کروں گا۔ سب سے پہلے مجھے فلسفہ میں اِس سوال کا ایک جواب ملا۔ مطالعہ کے دوران میں نے فرانس کے مشہور فلسفی رینے ڈیکارٹ (وفات: 1650) کو پڑھا۔ وہ انسان کے وجود کو ثابت کرنا چاہتا تھا۔ اُس نے کہا کہ ــــ میں سوچتا ہوں، اِس لئے میں ہوں:

I think, therefore I am.

ڈیکارٹ کا یہ فارمولا جس طرح انسان کے وجود پر منطبق ہوتا ہے، اُسی طرح وہ خدا کے وجود کے لیے بھی قابلِ انطباق (applicable) ہے۔ میں نے اِس قول پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ــــ انسان کا وجود خدا کے وجود کو قابلِ فہم بناتا ہے:

Existence of man makes the existance of God understandable. خدا کے وجود کے بارے میں یہ میرا پہلا فلسفیانہ استدلال تھا۔ میں نے کہا کہ ــــ میرا وجود ہے، اِس لیے خدا کا بھی وجود ہے:

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page