I am, therefore God is.
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳
I am, therefore God is.
فلسفہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام فلسفی کسی نہ کسی طور پر ایک برتر ہستی کا اقرار کرتے تھے۔ اگر چہ انہوں نے ’’خدا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے احتراز کیا، لیکن کچھ دوسرے الفاظ بول کر وہ خدا جیسی ایک ہستی کی موجودگی کا اعتراف کرتے رہے۔ مثلاً جرمنی کے مشہور فلسفی فریڈرک ہیگل (وفات: 1831) نے اس برتر ہستی کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کا نام دیا، وغیرہ۔ اس کے بعد میں نے چاہا کہ میں سائنسی طریق استدلال (scientific method) کے ذریعے اس معاملے کی تحقیق کروں۔ سائنسی مطالعہ میں جو مسلّمہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ مگر اس مشاہداتی استدلال کے دو دور ہیں۔ سائنس کا مطالعہ جب تک عالم کبیر (macro world) تک محدود تھا، اُس وقت تک اس استدلال کا صرف ایک طریقہ رائج تھا۔ لیکن جب سائنس کا مطالعاتی سفر عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا تو اس استدلال میں ایک تبدیلی واقع ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے اگر مشاہداتی استدلال (observational argument) کو درست مانا جاتا تھا، تو اب استنباطی استدلال (infcrential argument) کو بھی یکساں طور پر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی پہلے اگر آرجومینٹ فرام سین ٹو سین (argument from seen to seen) کا اصول رائج تھا تو اب آرجومینٹ فرام سین ٹو اُن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ ان دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
1. Observation, hypothesis, verification 2. Hypothesis, observation, verification ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں۔ دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات: 1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت سے گر کر
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues