Knowledge of things, knowledge of truths
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
نیچے آیا۔ یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوت کشش ہے۔ اِس کے بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کا استنباط درست (valid) تھا۔
سائنسی میتھڈالوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں ۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اِس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں— چیزوں کا علم، سچائیوں کا علم :
Knowledge of things, knowledge of truths
چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریق استدلال کارآمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابل انطبا ق ہے جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔
غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی ۔ وہ فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک سوال کیا۔ انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا کرائٹیرین کیا ہے: What criterion do you have to prove the existence of God. میں نے جواب دیا کہ — وہی کرائٹیرین جو آپ کے پاس اِس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو:
Same criterion that you have to prove anything else. اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریق استدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues