The stuff of the world is mind-stuff
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹
مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ۔ عالمِ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. آئن سٹائن اپنے اِس قول میں بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کا اقرار کر رہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہا جائے تو وہ اس طرح ہوگا کہ خدا کے بغیر عالمِ فطرت مکمل طور پر نا قابل فہم رہتا ہے، اور خدا کے ساتھ عالمِ فطرت مکمل طور پر قابل فہم بن جاتا ہے:
Without God, nature is totally incomprehensible, and with God, nature becomes totally comprehensible. کائنات بلا شبہ ایک با معنی کائنات (meaningful world) ہے۔ سائنس داں وہ لوگ ہیں جو کائنات کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ عام انسان کے مقابلے میں کائنات کی معنویت سے بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ چناں چہ سائنس دانوں نے عام طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ سائنس داں اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر "خدا" (God) کا لفظ بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن نام کے بغیر وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔
مثلاً برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (وفات: 1947) نے اپنی کتاب (The Mysterious Universe) میں کہا ہے کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical) کی شہادت دیتی ہے۔ برٹش عالمِ فلکیات سر فریڈ ہائل (وفات: 2001) نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ ہماری کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ امریکی سائنس داں پال ڈیویز (Paul Davis) نے اقرار کیا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک با شعور ہستی (conscious being) موجود ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) نے اِس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادہ ہے:
The stuff of the world is mind-stuff
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues