روزہ: قرآن کا مہینہ
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۵۱
روزہ: قرآن کا مہینہ
قرآن کی سورہ نمبر 2 میں روزے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: ’’رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، وہ ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستے کی اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا، پس تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے، وہ اس کے روزے رکھے‘۔ (البقرہ: 185) اس سے معلوم ہوا کہ روزے کا مہینہ خصوصی طور پر قرآن سے استفادے کا مہینہ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ذہنی طور پر تیار کیا جائے، تاکہ وہ قرآن کے مطالعہ اور تدبر سے زیادہ سے زیادہ حصہ پاسکیں۔ 15 اگست 1947 کی رات میں انڈیا کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی تھی۔ اس واقعے پر بہت سی کتابیں شائع ہوئیں ہیں۔ اُن میں سے ایک کتاب وہ تھی جس کو دو مغربی صحافیوں نے لکھا تھا۔ اس کتاب کا نام یہ تھا—نصف شب کی آزادی:
Freedom at Midnight
اس کتاب کی تیاری کے لیے دونوں صحافی وقتی طور پر دنیا سے کٹ گئے۔ چناں چہ ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ—ہم نے راہب جیسی زندگی گزاری، پھر ہم نے ’’نصف شب کی آزادی‘‘ تیار کی: We lived like hermits, and we produced Freedom at Midnight. نزول قرآن کے مہینے میں روزے کو فرض کرنے کا مقصد یہی ہے۔ روزے کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہل ایمان دنیا سے صرف بقدر ضرورت تعلق رکھیں ۔ وہ گویا وقتی طور پر راہبانہ زندگی اختیار کر لیں جس کی آخری صورت معتکف ہو جانا ہے۔ رمضان کے مہینے میں یہ مطلوب ہے کہ اہل ایمان اپنی خواہشات پر کنٹرول کریں۔ وہ زیادہ سے زیادہ اپنا وقت بچائیں، وہ قرآن کا مطالعہ کریں، وہ قرآن کے مضامین پر غور و فکر کریں، وہ تراویح کی صورت میں حالت نماز میں قرآن کو سنیں۔ اس طرح وہ سال میں کم از کم ایک مہینہ خصوصی طور پر قرآن کے مطالعہ اور غور و فکر میں گزاریں۔ اس مہینہ میں وہ صرف قرآن میں جئیں اور قرآن کو اپنے ذہنی اور روحانی ارتقاء کا ذریعہ بنائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues