نماز سے مدد
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳
نماز سے مدد
قرآن میں اہل ایمان سے کہا گیا ہے کہ تم لوگ نماز سے مدد لو (البقرۃ: 153) حدیث میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی سخت معاملہ پیش آتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے (إذا حزبہ أمر فزع إلى الصلوۃ) یہ سادہ معنوں میں صرف "نماز" کی بات نہیں، یہ ایک نہایت اہم بات ہے جس کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔
اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں بار بار انسان کے ساتھ ایسے معاملات پیش آتے ہیں جن میں وہ اپنے آپ کو عاجز (helpless) محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا ایک عام تجربہ ہے۔ اس میں کسی کا بھی کوئی استثناء نہیں۔ نماز اسی مسئلے کا ایک کامیاب حل ہے۔ جب کسی آدمی کے اوپر ایسے حالات آتے ہیں تو عام طور پر لوگ دو میں سے کسی ایک ردّعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ لوگ ظاہری حالات کو دیکھ کر ناامیدی کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اُس مہلک ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جس کو ٹنشن (tension) کہا جاتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہے جو مفروضہ طور پر کسی غیر خدا کو اپنا حاجت روا اور دست گیر سمجھ لیتا ہے اور وہ بے فائدہ طور پر اس کی طرف دوڑنا شروع کر دیتا ہے۔
اِس نازک صورتِ حال سے بچنے کے لیے ایک ہی درست اور قابل اعتماد طریقہ ہے، اور وہ دعا اور ذکر اور نماز کا طریقہ ہے۔ اس طرح کے موقع پر جب ایک بندہ وضو کر کے نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور دو رکعت یا اس سے زیادہ نماز ادا کر کے خدا سے دعا کرتا ہے تو یقینی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اس کے دل میں سکون آ جاتا ہے، اس کو محسوس ہوتا ہے کہ اُس نے اپنے حقیقی کارساز کو پا لیا ہے، اس کو پیش آمدہ حالات میں اعتماد کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے ایک مضبوط بنیاد حاصل ہو گئی ہے۔ نماز ایک عبادت بھی ہے، اور مشکل حالات میں سکون حاصل کرنے کا ذریعہ بھی۔ اس اعتبار سے نماز کو ہر عورت اور مرد کے لیے ایک نفسیاتی سہارا کہا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues