یہود، یا بنی اسرائیل
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
فلسطین کا مسئلہ Realism Returns to Palestine فلسطین کی جدید تاریخ 1948 سے شروع ہوتی ہے، جب کہ بال فور ڈکلیریشن (Balfour Declaration) کے تحت فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ یہ واقعہ برٹش ایمپائر کے زمانے میں ہوا۔ اس تقسیم کے تحت جو ہوا، وہ یہ کہ سر زمینِ فلسطین کا تقریباً ایک تہائی حصہ یہود کو آباد کاری (settlement) کے لیے دیا گیا، جو کہ اُس وقت بیرونی علاقوں میں بسے ہوئے تھے۔ اور فلسطین کا تقریباً دو تہائی رقبه عربوں کے حصے میں آیا، جو کہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔ یہود کو یہ حق پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے دوران محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت دیا گیا تھا۔ بعد کو اسرائیل کی جو توسیع عمل میں آئی، وہ بال فور ڈکلیریشن کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ یقینی طور پر عربوں کی اپنی غلط پالیسی کا نتیجہ تھی۔ مثلاً سوئز کمپنی کا پٹہ (lease) جو 1968 میں اپنے آپ ختم ہو رہا تھا، اِس کو 1956 میں یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ فطری طور پر اس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پا کر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔
یہود، یا بنی اسرائیل
یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔ یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ اُن سے منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طور پر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عرفی نام اسرائیل تھا۔ عبرانی زبان میں اسرائیل کے معنی ہیں: اللہ کا بندہ، جیسا کہ اسماعیل کے معنی ہیں: اللہ کا سننا۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues