Al-Risala · October 2009 · page 18

Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸

دو بیٹے تھے — اسماعیل اور اسحاق ۔ اسماعیل، آپ کے بڑے بیٹے تھے، جو ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ اور اسحاق آپ کے چھوٹے بیٹے تھے، جو آپ کی دوسری بیوی سارہ کے بطن سے تھے۔ حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب میں آباد کیا۔ اور اپنے دوسرے بیٹے اسحاق کو خدا کے حکم سے فلسطین کے علاقے میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب تھے، جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انھیں کی نسل بنی اسرائیل (Children of Israel) کہلائی۔ اپنے آبائی تعلق کی بنا پر فلسطین، بنی اسرائیل کا وطن قرار پایا، جیسا کہ اسی طرح کے آبائی تعلق کی بنا پر عرب، بنواسماعیل کا وطن مانا جاتا ہے۔ یہودی مذہب ایک نسلی مذہب ہے۔ یہودی مذہب میں کنورژن (conversion) کا کوئی تصور نہیں ۔ اس لیے آج جتنے یہودی دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سب کے سب براہِ راست طور پر حضرت یعقوب (اسرائیل) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نسبت کی بنا پر تمام یہودیوں کا مشترک وطن فلسطین ہے، جیسا کہ ان کے مورثِ اعلیٰ اسحاق اور یعقوب کا وطن فلسطین تھا۔ بنواسماعیل کا وطن عرب قرار پانا، اور بنواسحاق (بنی اسرائیل) کا وطن فلسطین قرار پانا، دونوں کا تقرر حضرت ابراہیم نے کیا، جو کہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت تھا۔

قدیم زمانہ مذہبی معاملات میں عدم رواداری (intolerance) کا زمانہ تھا۔ یہود کو بار بار اس طرح کے ناخوش گوار تجربات پیش آئے ۔ چناں چہ ان کی ایک تعداد فلسطین چھوڑ کر باہر جاتی رہی۔ یہی یہودی تارکین وطن ہیں جن کو یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کہا جاتا ہے۔ ڈائس پورا کا مطلب ہے — وہ یہودی تارکینِ وطن، جو فلسطین کے باہر آباد ہوں:

Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.

بالفور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین واپسی کا فیصلہ انھیں ڈائس پورا میں رہنے والے یہودیوں کی بابت تھا۔ 1948 میں جب بیرونی علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کی ایک تعداد فلسطین واپس آئی، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے ان کے خلاف سخت قسم کے منفی ردِّعمل کا اظہار ہوا۔ عربوں کی سب سے بڑی تنظیم الاخوان المسلمون دراصل یہود کے خلاف منفی جذبات کے زیرِ اثر بنی۔ اُس وقت عرب رہ نماؤں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page