Al-Risala · October 2009 · page 35

The environs of which, We have blessed.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۵

میں جب یہ معاہدہ ختم ہوا تو فطری طور پر ہانگ کانگ ، چین کو واپس مل گیا ۔ 1956 میں صدر جمال عبدالناصر کا نہر سوئز پر قبضہ کرنا کوئی شخصی فعل نہ تھا ، بلکہ تمام عرب قیادت اس میں شریک تھی ۔ اس واقعے نے عرب قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دیا ہے۔ عرب قیادت مطالبہ کر رہی ہے کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین کی مزید زمین پر نا جائز قبضہ (illegal occupation) کر لیا ہے۔ حالاں کہ خود عرب قیادت نے 1956 میں اسی طرح نہر سوئز پر نا جائز قبضہ (illegal occupation) کر لیا تھا۔

خالص انصاف کی رو سے دیکھا جائے ، تو معاہدے کی خلاف ورزی ، یا نا جائز قبضے کے معاملے میں عرب قیادت اور اسرائیل ، دونوں ایک ہی فعل کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ جب دو فریق یکساں طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں ، تو کسی ایک فریق کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ دوسرے فریق کو مجرم ٹھہرائے ، جب کہ وہ خود بھی اُسی جرم میں مبتلا ہو۔

اگر کوئی ایک فریق یہ چاہتا ہو کہ وہ دوسرے فریق کی غلطی کی اصلاح کرے ، تو مطالبہ کرنے والے فریق کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کا کھلے طور پر اعتراف کرنا چاہیے ۔ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر ، دوسرے کی غلطی کا اعلان کرنا ایک مضحکہ خیز کارروائی ہے ، وہ نہ کوئی درست کام ہے اور نہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد ہونے والا ہے۔

3- عرب رہ نما ، بلکہ تمام مسلم رہ نما مسلسل طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل ایک ظالم ریاست ہے۔ وہ فلسطینی عربوں کے اوپر بم برساتا ہے۔ اسرائیلی فوج ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی ہے ، مگر عین اُسی وقت خود عرب اور غیر عرب مسلمان تشدد کا یہی فعل کر رہے ہیں ۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ، بلکہ وہ جس کو اسرائیل کا حلیف دیکھتے ہیں ، اس کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں ، حتیٰ کہ جہاں ان کے لیے بم اور گولی کا موقع نہیں ہوتا ، وہاں وہ خودکش بم باری کے ذریعے ان کو جان اور مال کی ہلاکت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ مسلم رہ نما ، عرب اور غیر عرب دونوں ، اسرائیل کے تشدد کا تو خوب تذکرہ کرتے ہیں ، لیکن وہ کبھی عربوں اور مسلمانوں کے تشدد کی مذمت نہیں کرتے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page