Al-Risala · October 2009 · page 34

The environs of which, We have blessed.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۴

اس سے پہلے 1956 میں وہی فعل کر چ ہیں جس کا ارتکاب، اسرائیل کی طرف سے 1967 میں ہوا۔ اس لیے 'البادی أظلم‘ کے اصول کے مطابق ،اس بحرانی صورت حال کو پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھودیتا ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، اسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کر چکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal) ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈسی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین کمپنیوں نے (1859-69) بنائی تھی۔ پھر حکومت مصر نے اس کو برٹش اور فرنچ کمپنی (.Suez Canal Co) کو 99 سال کے لیے پٹہ (lease) پر دے دیا۔ معاہدے کے مطابق ، یہ پٹہ 1968 میں ختم ہورہا تھا۔ لیکن عرب رہنما اُس زمانے میںرومانوی جوش کا شکار تھے۔ اس ماحول میں یہ ہوا کہ مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر (وفات : 1970) نے 1956 میں یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کردیا اور یورپین کمپنی کو بے دخل کرکے نہر سوئز کو حکومت مصر کے براہِ راست قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ برطانیہ اور فرانس دونوں سخت برہم ہوگئے۔ انھوں نے مصر کے خلاف انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ برطانیہ اور فرانس نے اس معاملے میں خاموشی کے ساتھ اسرائیل کی مدد کی اور اسرائیل کے ذریعے مصر پر 1967 میں باقاعدہ حملہ کرادیا۔ 1967 کی اِس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی ۔ اس کے بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ تقریباً پانچ گنا حد تک بڑھالیا۔ نہر سوئز کے معاملے میں حکومتِ مصر کی یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے سرتا سر خلاف تھی ۔ عرب قیادت اگر صرف بارہ سال انتظار کرتی، تو 1968 میں نہر سوئز اس کو اپنے آپ مل جاتی، جس طرح ہانگ کانگ کے پٹہ کے تحت ، حکومت برطانیہ کے قبضے میں تھا۔ لیکن چین نے اس معاملے میں پیشگی طور پر قبضے کی کارروائی نہیں کی، بلکہ معاہدے کی مدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا، چناں چہ 1997

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page