آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
اس معاملے کا ایک اور پہلو (aspect) یہ ہے کہ کوانٹم فزکس نے بالواسطہ طور پر ایک خدا کے وجود کو ثابت کیا ہے۔ کیوں کہ عالم موجودات میں جو کامل وحدت (harmony) پائی جاتی ہے، وہ ایک قادرِ مطلق خدا کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔
سوال
آپ نے اپنی ایک تقریر میں کہا ہے کہ رمضان ’شہر القرآن‘ ہے، یعنی رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اس سے مراد قرآن کی تلاوت کرنا یا قرآن کو ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد قرآن کا مطالعہ کرنا ہے۔ آپ نے کہا کہ تراویح بھی اسی نوعیت کی ایک چیز ہے۔ تراویح کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کو حالتِ نماز میں سنا جائے اور اس پر غور کیا جائے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جو لوگ عربی زبان نہ جانتے ہوں، وہ تراویح میں قرآن کو کیسے سمجھیں گے (پروفیسر نجمہ صدیقی، نئی دہلی) جواب اس مسئلے کا ایک حل یہ ہے کہ امام صاحب پیشگی طور پر نمازیوں کو یہ بتادیں کہ آج وہ قرآن کا کون سا حصہ تراویح میں پڑھیں گے۔ اس کے بعد نمازی یہ کریں کہ وہ قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر مسجد میں آئیں۔ اس طرح زیرِ تلاوت قرآن کا مفہوم سمجھنا اُن کے لیے آسان ہو جائے گا۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تراویح سے پہلے یا تراویح کے بعد قرآن کے اُس حصے کا ترجمہ پڑھ کر لوگوں کو سنا دیا جائے جو اُس دن تراویح میں پڑھا جانے والا ہے۔
واضح ہو کہ قرآن کا مجموعہ الفاظ (vocabulary) عام کتابوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ایک شخص معمولی کوشش سے اپنے اندر یہ استعداد پیدا کرسکتا ہے کہ وہ قرآن کے بنیادی مفہوم کوسن کر یا پڑھ کر سمجھ سکے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: و ما خلقت الجنّ والإنس إلّا ليعبدون (الذاریات: 56) ایک شخص جو اردو زبان جانتا ہو، وہ نہایت آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ— میں نے انسانوں اور جن کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues