آمدنی بڑھانے کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳
خبر نامہ اسلامی مرکز — 197
1- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 10 جون 2009 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس کا موضوع یہ تھا: Basic Human Values in Islam اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک گھنٹے کی تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس کے ممبران نے حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ حاضرین میں موجود مسٹرایل وی چھناپن کو جب قرآن کا ترجمہ دیا گیا تو انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے، جیسے میں نے خدا کا ہاتھ پکڑ لیا ہے۔
2- نئی دہلی کے ایف اے این ایس (Foundation for Amity and National Solidarity)
کی طرف سے 11 جون 2009 کی شام کو ڈنر ریسپشن کا ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام نئی دہلی کے امپیریل ہوٹل میں کیا گیا۔ یہ پروگرام سیکولر فورسیز کی کامیابی کے طور پر منسٹر آف پاور مسٹر سُشیل کمار شندے کے اعزاز میں منعقد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام میں ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور بڑی بڑی شخصیات شامل تھیں۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس کی ٹیم کے ممبران نے اس میں شرکت کی۔ اور حاضرین کو مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
3- صدر اسلامی مرکز نے نئی دہلی میں صدر جمہوریہ ہند مسز پر تِبھا پاٹل سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات 29 جولائی 2009 کو سرودھرم سنسد کے وفد کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں ہوئی۔ صدر جمہوریہ کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس انٹرنیشنل کا مختصر تعارف کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارا مشن پیس اور اسپرچولٹی کا مشن ہے۔ 1947 کے بعد سے یہ مشن خاموشی کے ساتھ اپنا کام کر رہا ہے۔ خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں میں یہ ہوا ہے کہ ان کے اندر نیگیٹیو سوچ کے بجائے پازیٹیو سوچ بڑے پیمانہ پر پیدا ہوئی ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں میں نمایاں تبدیلی (Sea Change) آئی ہے۔ انھوں نے ٹکراؤ کا راستہ چھوڑ کر تعمیر وترقی کا راستہ اپنا لیا ہے۔
4- نئی دہلی کے فکی (FICCI) آڈیٹوریم میں 6 اگست 2009 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مسٹر لال کرشن آڈوانی کی خود نوشت سوانح حیات ’’میرا وطن، میری زندگی‘‘ کے اردو ترجمہ کے رسم اجرا کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی صدارت میں ہوا۔ کتاب کا رسم اجرا مسٹر ایم جے اکبر نے کیا۔ صدر اسلامی مرکز نے اپنی صدارتی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میرا مشن انڈیا کو ’اسپرچول سپر پاور‘ بنانا ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے بعد مسٹر آڈوانی کی تقریر تھی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج میں نے پہلی بار’’اسپرچول سپر پاور‘‘ کا لفظ مولا نا صاحب کی زبان سے سنا ہے۔ اس سے ہم کو حوصلہ ملا ہے۔ مولا نا صاحب نے آج ہم کو ہمارا لکش دے دیا۔ اس پروگرام میں بی جے پی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے اعلیٰ عہدے داران موجود تھے۔ اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues