Al-Risala · November 2009 · page 2

دوسرے دل کا شکاسہ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲

ایک آیت

قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے : وإن من أھل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته (النساء: 159) یعنی اہل کتاب میں سے کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو اپنی موت سے پہلے اس (قرآن) پر ایمان نہ لے آئے۔

اس آیت میں ایک متعین حوالہ (particular reference) کی روشنی میں ایک عمومی (general) بات کہی گئی ہے، وہ یہ کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک سچائی کا انکار کرتا رہتا ہے، لیکن اپنے آخری زمانے میں جب کہ وہ اپنی موت کے قریب پہنچ جاتا ہے، اُس وقت وہ محسوس کرتا ہے کہ میرا انکار درست نہ تھا۔ آخروقت میں اُس کا دل اُس بات کو داخلی طور پر مان لیتا ہے جس کا وہ اپنی پوری زندگی میں انکار کرتا رہا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ہر آدمی کے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس کی صداقت کو محسوس کرتا رہتا ہے۔ لیکن جوانی کی عمر میں اس کو اپنے اوپر اتنا زیادہ اعتماد رہتا ہے کہ وہ سچائی کے معاملے پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ وہ سمجھتا رہتا ہے کہ میرا راستہ درست راستہ ہے۔ وہ اپنی بڑائی کو باقی رکھنے کے لیے سچائی کا اعتراف کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب اُس پر بڑھاپا آتا ہے، جب وہ ذہنی اور جسمانی کم زوری کا شکار ہو جاتا ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ جلد ہی میری موت آنے والی ہے، اُس وقت حالات کے اثر سے اس کے اندر نظر ثانی کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی دبی ہوئی فطرت ابھر آتی ہے۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ سچائی وہی تھی جس کا میں انکار کرتا رہا، لیکن عزت نفس (self-respect) کا خیال اس کو اس سے روک دیتا ہے کہ وہ کھلے طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرے۔ رشید کوثر فاروقی (وفات: 2007) نے اپنے ایک شعر میں اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:

زیست کا راز کھلا، گردش ایام کے بعد اس کہانی کا تو آغاز تھا، انجام کے بعد

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page