Al-Risala · November 2009 · page 3

بے خوفی کی نفسیات

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳

بے خوفی کی نفسیات

آج کل مسلمانوں میں ہر جگہ اسلام کی دھوم ہے۔ مشرق سے مغرب تک ہر جگہ دین کے نام پر بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ مگر ان ہنگامہ خیز سرگرمیوں میں وہی چیز غائب ہے جو دین کی اصل ہے، یعنی اللہ کا خوف جس کو قرآن اور حدیث میں تقویٰ کہا گیا ہے۔

آج کل مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ اگر اُنھیں قیامت کی خبر دی جائے تو وہ ایسا جواب دیں گے، جیسے کہ انھیں قیامت کے آنے کا کوئی ڈر نہیں، اس لیے کہ ان کو’’شفیع المذنبین‘‘ کا وسیلہ حاصل ہے۔ قیامت اگر آئی بھی تو وہ صرف دوسروں کے لیے ہوگی، نہ کہ مسلمانوں کے لیے۔ مسلمانوں کو قیامت سے ڈرائیے تو اُن میں سے کوئی شخص کہے گا کہ ابھی قیامت کہاں، ابھی تو مسیح نازل نہیں ہوئے۔ ابھی تو مہدی نہیں آئے۔ ابھی تو دجال ظاہر نہیں ہوا۔ کوئی کہے گا کہ حدیث میں آیا ہے: مَنْ مات فقد قامت قيامته ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انفرادی قیامت تو ہر روز آ رہی ہے۔ اسی طرح ایک دن اجتماعی قیامت بھی آجاۓ گی، پھر اس کے بارے میں فکر مند ہونے کے کیا معنی۔ کوئی کہے گا کہ دنیا اور آخرت کی تمام سعادتیں مسلمانوں کے لیے لکھ دی گئی ہیں، پھر ایسی حالت میں قیامت سے ڈرنے کی کیا ضرورت، وغیرہ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بعثتُ أنا والساعة جميعًا (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 348) یعنی میں اور قیامت دونوں ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ اس کو سن کر اصحاب رسول کا یہ حال ہوا کہ اگر آندھی بھی آجاتی تو وہ ڈر جاتے کہ شاید قیامت آگئی۔ مگر آج کل مسلمانوں کی بے خوفی کا یہ حال ہے کہ اُن سے کچھ بھی کہیے، لیکن ان کے اندر ڈر کی نفسیات نہیں پیدا ہوگی، وہ بدستور بے خوفی کی زندگی گزارتے رہیں گے۔ یہ حالت صرف عام مسلمانوں کی نہیں ہے، بلکہ ان لوگوں کی بھی یہی حالت ہے جن کی ظاہری وضع قطع کو دیکھ کر ان کو دین دار مسلمان ہونے کا لقب دیا جاتا ہے۔ یہ گراوٹ کا آخری درجہ ہے، اس کے بعد گراوٹ کا کوئی اور درجہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page