اعلیٰ معرفت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۶
اعلیٰ معرفت
اعلیٰ معرفت بلاشبہ کسی انسان کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ یہ دراصل اعلیٰ معرفت ہے جو انسان کو حیوان سے مُميّز کرتی ہے۔ اعلیٰ معرفت کو حاصل کرنا، اتناہی ممکن ہے جتنا کہ کسی اور چیز کو حاصل کرنا۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی اس کی قیمت ادا کرے۔ ضروری قیمت ادا کئے بغیر اس دنیا میں کوئی چیز کسی کو نہیں ملتی، اور اسی طرح اعلیٰ معرفت بھی۔
اعلیٰ معرفت کے حصول کی قیمت کیا ہے، وہ صرف ایک ہے۔ معرفت کو اپنی زندگی میں اوّلین درجہ دینا اور بقیہ تمام چیزوں کو ثانوی بنادینا۔ جو عورت یا مرد یہ قیمت ادا کریں، وہ ضرور اعلیٰ معرفت کے درجے تک پہنچیں گے۔ اور جو لوگ یہ قیمت ادا نہ کریں، وہ کسی بھی حال میں اعلیٰ معرفت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے ، خواہ کسی اور اعتبار سے انھوں نے کتناہی زیادہ عمل کیا ہو۔ اصل یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے مواقع آتے ہیں، جب کہ آدمی اپنے آپ کو دو تقاضوں کے درمیان پاتا ہے، دین کا تقاضا اور دنیا کا تقاضا۔ ایسے موقع پر آدمی اگر یہ کرے کہ وہ دین کے تقاضے کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے دنیوی تقاضے کی طرف جھک جائے، تو ایک بار ایسا کرنا بھی آدمی کے لیے ہلاکت کا سبب بن جاتا ہے۔
اس طرح شیطان کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ آدمی کے سفرِ معرفت کو روک کر اس کو پیچھے کی طرف دھکیل دے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں اس طرح بیان کی گئی ہے:
”جو لوگ ڈر رکھتے ہیں، جب کبھی انھیں کوئی شیطانی خیال چھوجاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں، اور پھر اُسی وقت اُن کو سوجھ آ جاتی ہے۔ اور جو شیطان کے بھائی ہیں، وہ اُن کو گم راہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں، پھر وہ کمی نہیں کرتے۔ “(الأعراف: 201-202)
حقیقت یہ ہے کہ معرفت کا سفر ایک مسلسل سفر ہے۔ ایک دن کے لیے بھی اگر آدمی نے اپنے سفرِ معرفت کو روکا تو وہ سالوں کے لیے پیچھے چلا جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues